خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 120
خطابات شوری جلد سوم ۱۲۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء ہو سکے بلکہ اگر ممکن ہو تو ساٹھ ستر ہزار آمد پیدا ہو جائے۔عمدہ کالج کسی طرح بھی سوالاکھ روپیہ سالانہ کے خرچ سے کم میں نہیں چل سکتا۔اگر کالج میں چھ سولڑ کا ہو اور اوسط فیس پانچ ہزار روپیہ ماہوار یا ساٹھ ہزار روپیہ سالانہ ہو اور پچھتر ہزار کے قریب ریز رو فنڈ سے آمد ہو تو بغیر جماعت پر بوجھ ڈالنے کے عمدگی سے ہم اس کا لج کو چلا سکتے ہیں۔دوسرا پروگرام میرے مدنظر یہ ہے کہ ہم جلد سے جلد یہاں ایک میڈیکل سکول جاری کر دیں کیونکہ بعض ممالک میں ہم کامیاب طور پر تبلیغ نہیں کر سکتے جب تک کثرت سے ہماری جماعت میں ڈاکٹر نہ ہوں۔دوسرے اس سکول کی ضرورت ہماری جماعت کو اس لئے بھی ہے کہ عورتوں کے لئے ڈاکٹری تعلیم کا حصول دوسرے کالجوں میں اب بہت مشکل ہو گیا ہے۔گورنمنٹ کا رُجحان اب اس طرف ہو گیا ہے کہ ایم۔بی۔بی۔الیس تک سب کو تعلیم دلائی جائے اور ایم۔بی۔بی۔ایس تک تعلیم دینے کے لئے کالجوں میں مرد پروفیسر مقرر ہوتے ہیں۔اسلامی شعار چونکہ پردہ کرنا ہے اس لئے آئندہ ہماری عورتوں کی میڈیکل تعلیم میں سخت مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔مجھے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کی طرف سے بتایا گیا ہے گو مجھے یقین نہیں آتا کہ بیس ہزار روپیہ سالانہ کے خرچ سے ہم میڈیکل سکول قادیان میں جاری کر سکتے ہیں۔اگر یہ درست ہو تو شاید میں لمبا انتظار بھی نہ کروں اور فوراً اس سکول کو جاری کر دوں۔کیونکہ ایک تو ڈاکٹر عورتیں پیدا کرنا عورتوں میں ہمارے تبلیغی اثر کو بہت وسیع کر دے گا۔دوسرے ہم اپنے مبلغین کو دینیات کے ساتھ ڈاکٹری کی تعلیم آسانی کے ساتھ دلا سکتے ہیں۔مثلاً وہ لڑکے جو انٹرنس پاس ہوں اور اُنہیں بطور مبلغ ہم رکھنا چاہتے ہوں، اُن کے متعلق یہ ہو سکتا ہے کہ میڈیکل سکول میں داخل کر کے ہم اُن کو ڈاکٹری تعلیم دلا دیں اور دوسری طرف علیحدہ انہیں دینی تعلیم بھی دیتے رہیں۔اس ذریعہ سے اچھوت اقوام میں اپنے تبلیغی اثر کو بہت وسیع کیا جا سکتا ہے۔بالخصوص جنوبی ہند اور افریقہ میں اس سکیم کے ماتحت مبلغ اپنی روزی بھی کما سکتے ہیں اور اسلام اور احمدیت کی اشاعت بھی کر سکتے ہیں۔تبلیغ دوحصوں میں میں یہ بھی بتا دینا چاہتاہوں کہ آئندہ تبلیغ کو میں نے دوحصوں میں منقسم کر دیا ہے۔ہندوستان کی تبلیغ کو صدر انجمن احمدیہ کے ماتحت ا