خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 116
خطابات شوری جلد سوم 117 مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء ڈاکٹر بشارت احمد صاحب یہ سب کے سب ایسے تھے جن کی آمد میں ہزار ہزار روپیہ ماہوار سے زیادہ تھیں۔پھر لائل پور کے تاجر جو ملک التجار کہلاتے ہیں اُن کا چندہ اگر شامل کر لیا جائے تو وہ سات ہزار میں کسی طرح سما ہی نہیں سکتا بلکہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ انہیں بہت زیادہ آمد تھی۔ہاں یہ ممکن ہے کہ کسی مصلحت اور کسی خاص خرچ کو چھپانے کے لئے وہ آمد حساب میں نہ لائی جاتی ہو۔پھر اب جو وہ اپنی آمد بتاتے ہیں وہ بھی صحیح نہیں۔میں نے تو اپنے بجٹ کا حساب کرتے وقت مشروط بہ آمد رقوم کو نکال دیا ہے۔مگر اُن کا طریق یہ ہے کہ وہ خیالی رقوم لکھ دیتے ہیں مثلاً لکھ دیں گے متفرق چالیس ہزار یا پچاس ہزار۔حالانکہ وہ آمد نہیں ہوتی بلکہ ایک خیالی چیز ہوتی ہے۔پھر اُن کی آمد میں کتابوں کی فروخت سے جو نفع ہوتا ہے وہ بھی شامل ہوتا ہے، زمینوں کی آمد بھی شامل ہوتی ہے لیکن ہمارے بجٹ میں یہ چیزیں شامل نہیں ہوتیں۔اگر اس قسم کی آمد نہیں ہم اپنے بجٹ میں شامل کریں تو ہیں بائیس لاکھ روپیہ تک ہمارا بجٹ جا پہنچتا ہے مگر ہمارا طریق یہ ہے کہ ہم اس قسم کی آمدنیوں کو بجٹ میں شامل نہیں کرتے۔اگر اُن کے بجٹ میں سے اس قسم کی آمد نیوں کو نکال دیا جائے تو جیسا کہ مجھے بتایا گیا ہے اُن کا بجٹ خالص آمد کا پچاس ہزار روپیہ کے قریب رہ جاتا ہے۔پس در حقیقت اُنہوں نے کوئی ترقی نہیں کی لیکن ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے کئی گنا ترقی کر چکے ہیں۔باقی غیر مبائعین جس طرح چندہ جمع کرتے ہیں، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے گیارہ لاکھ روپیہ جمع کرنے کی تحریک کی اور کہا جماعت اگر اس قدر روپیہ اکٹھا کر لے تو یہ ایک معجزہ ہوگا۔اس کے بعد معجزہ یہ ہوا کہ بمبئی میں مولوی محمد علی صاحب کا ایک رشتہ دار اعلیٰ عہدہ پر مقرر ہوا۔مولوی صاحب وہاں چلے گئے اور اس رشتہ دار نے وہاں کے بڑے بڑے تاجروں کو تحریک کر دی اور اُنہوں نے دُنیوی اغراض کے ماتحت بڑے بڑے چندے دے دیئے۔بعض کہتے ہیں کہ اُنہوں نے ایک لاکھ روپیدا اکٹھا کیا۔بعض کہتے ہیں انہیں پچاس ہزار روپے ملے اور بعض کہتے ہیں انہیں وہاں صرف ۲۵ ہزار وپے ملے۔مختلف رپورٹیں ہیں۔معلوم نہیں ان میں سے کونسی رپورٹ زیادہ صحیح ہے بہر حال یہ ۲۵ ہزار روپیہ ہو یا پچاس ہزار یا ایک لاکھ۔یہ غیر احمدیوں کا چندہ ہے ان کا تو ہے ہی نہیں اگر گیارہ لاکھ روپیہ وہ اپنی جماعت سے اکٹھا کریں تو بیشک یہ اُن کی قربانی کی