خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 113
خطابات شوری جلد سوم۔۱۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء چاہئے جن سے ہم اپنی آمد کو بڑھا سکیں۔تا کہ اس پروگرام پر اگر ہم پورے طور پر عمل نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کے ایک حصہ کو ہی جامیہ عمل پہنا سکیں۔مثلاً صرف پنجاب کو لے لو، اس میں تھیں ضلعے ہیں، ہر ضلع میں اوسطاً چار تحصیلیں ہوتی ہیں اور ہر تحصیل میں اندازاً پانچ سو گاؤں ہوتے ہیں۔اس طرح انداز اساٹھ ہزار گاؤں بلکہ اس سے بھی زیادہ صرف پنجاب میں ہیں۔میرے نزدیک ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ پنجاب میں اسی نوے ہزار گاؤں ہیں کیونکہ بعض گاؤں بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں بالخصوص پہاڑی گا ؤں تو صرف چند گھروں پر ہی مشتمل ہوتے ہیں۔اگر ہم صرف پنجاب کے ان دیہات میں ہی تبلیغ کریں اور ہندوستان کے باقی صوبہ جات کو نظر انداز کر دیں، تب بھی ہمیں کم از کم پانچ ہزار مبلغوں کی ضرورت ہوگی۔جن میں سے ایک ایک مبلغ پندرہ پندرہ سولہ سولہ گاؤں کے لئے۔ا ہو گا مگر یہ سکیم بھی ایسی ہے جسے ہماری موجودہ مالی حالت برداشت نہیں کر سکتی۔بہر حال ہم کوئی بھی سکیم بنائیں ، خواہ وہ لوکل ہو یا آل انڈیا یا تمام دنیا سے تعلق رکھتی ہو ہماری موجودہ آمدنی کسی طرح بھی کسی معقول عرصہ میں اس کو پورا نہیں کرسکتی اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی آمد کو بڑھانے کے اور ذرائع اختیار کریں۔مثلاً انہی تدابیر میں سے ایک تدبیر یہ بھی ہے کہ ہم جو دیہاتی مبلغ رکھتے ہیں اُن کو جہاں سال بھر میں دینیات کی تعلیم دی جاتی ہے، وہاں انہیں طب بھی سکھائی جاتی ہے جس سے ہمارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے گزارہ کے لئے آمد پیدا کر سکیں۔اگر طب کے بغیر انہیں اپنے گزارہ کے لئے پچاس روپیہ کی ضرورت ہو تو اس ذریعہ سے وہ صرف چھپیں تھیں میں ہی گزارہ کر سکتے ہیں اور انہیں کوئی خاص پریشانی لاحق نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ طب جانتے ہوں گے اور آسانی سے اپنے لئے اور آمد پیدا کر سکیں گے۔یہ ایک ایسی تدبیر ہے جس سے ہم اپنا تبلیغی خرچ نصف پر لے آتے ہیں لیکن اس صورت میں بھی اگر اُن کے اخراجات کو چھپیں پر لے آئیں تب بھی مزید پچیس روپے ہمیں اُن کے کرایوں اور لٹریچر وغیرہ کے لئے خرچ کرنا پڑے گا۔گویا پچاس روپیہ ماہوار وہ قلیل ترین خرچ ہے جو ایک دیہاتی مبلغ کو دیا جا سکتا ہے اور یہ خرچ ایسا ہے جو آٹھ لاکھ یا ایک لاکھ بلکہ ایک ہزار مبلغین کے لئے بھی ہم موجودہ حالت میں برداشت نہیں کر سکتے۔