خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 112
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء بھیجتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب وہ ہماری مرضی پر اس کام کو چھوڑ رہا ہے۔اُس وقت ہمارا یہ کہنا کہ جس طرح خدا کی مرضی ہے ہو جائے گا بالکل ویسا ہی ہوتا ہے جیسے ناواقف بچہ یا نا واقف عورت بعض دفعہ جواب دیتی ہے کہ جس طرح آپ کی مرضی۔خدا تعالیٰ جب اپنے کسی مامور کو بھیجتا ہے تو اس کے بھیجنے سے اُس کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ اب لوگ خود قربانی کریں اور میرے منشاء کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ورنہ اگر اُس نے اپنی مرضی ہی چلانی ہوتی تو اُسے کسی مامور کو بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی۔وہ عرش پر بیٹھے بیٹھے تمام کام کر سکتا تھا۔اُس کا لوگوں کی ہدایت کے لئے مامور کو بھیجنا بتاتا ہے کہ وہ اس وقت اپنی مرضی کے ساتھ بندوں کی جدوجہد کو شامل کر دیتا ہے۔پس جب کہ ہم ایک مامور کی جماعت میں شامل ہیں، ہمیں یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ ہم اپنی عقل اور اپنی جد و جہد اور اپنی قربانی سے کام لیں اور اس طرح دین کی اشاعت کے کام کو سرانجام دیں۔پس جو پروگرام بھی دین کی اشاعت کے لئے ضروری ہوگا اُس کے لئے سامان بہم پہنچانا اور اُس سامان کی فراہمی کے لئے ضروری تدابیر اختیار کرنا ہمارا اپنا فرض ہوگا جس سے ہم کسی طرح بھی غفلت اختیار نہیں کر سکتے۔میں نے بتایا ہے کہ اگر صرف ہندوستان کی تبلیغ ہمارے سامنے ہو تو ہمیں ایک لاکھ دیہاتی مبلغوں کی ضرورت ہو گی۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ہم صحیح طور پر تبلیغ کرنا چاہیں تو ہمیں ہر گاؤں میں ایک ایک مبلغ رکھنا چاہئے بلکہ بعض گاؤں ایسے بھی ہو سکتے ہیں جن میں ایک ایک مبلغ کا رکھنا بھی ناکافی ہو اور وہاں زیادہ مبلغین کی ضرورت ہو۔مثلاً قادیان جس کی چودہ ہزار آبادی ہے۔اگر اتنی آبادی والا کوئی قصبہ ہو تو وہاں ایک مبلغ کافی نہیں ہو سکتا بکہ تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے لئے چودہ پندرہ آدمیوں کی ضرورت ہوگی لیکن چونکہ کئی چھوٹے گاؤں بھی ہو سکتے ہیں اس لئے اُن کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ہم قلیل ترین پروگرام یہ بنائیں کہ ہر گاؤں میں اپنا ایک ایک مبلغ رکھیں تب بھی اس کے لئے کروڑوں روپیہ کی ضرورت ہے مگر ہماری موجودہ حالت ایسی نہیں کہ ہم اتنا بوجھ برداشت کر سکیں یا اس پر فوری طور پر عمل کر سکیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بالکل غلط ہے کہ جس راستہ پر ہم اب تک چلتے چلے آ رہے ہیں اُسی راستہ پر چلتے چلے جائیں۔ہمیں جلد سے جلد ایسی تدابیر پر غور کرنا