خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 111
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء کہ مستقبل میں کیا ہو گا۔مگر اس وقت جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ یہی ہے کہ جن جن جماعتوں میں ہمارے یہ مبلغ گئے ہیں اُن میں ایک بیداری پیدا ہو گئی ہے اور ارد گرد کے علاقوں پر بھی اس متواتر اور منظم تبلیغ کا ایسا خوشگوار اثر پڑا ہے کہ وہ لوگ ہماری باتیں سننے کے لئے تیار ہو گئے ہیں اور دیہات میں سے کئی لوگ بیعت میں شامل ہو گئے ہیں۔جیسا کہ میں نے بار ہا بتایا ہے کہ میری سکیم یہ ہے کہ ہم ہندوستان میں اپنی تبلیغ کو اتنا وسیع کر دیں کہ ہر سات آٹھ گاؤں پر ہمارا ایک مبلغ ہو۔ہندوستان میں اندازاً آٹھ لاکھ گاؤں ہیں، اگر آٹھ گاؤں پر ہمارا ایک مبلغ ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہمیں صرف ہندوستان کے دیہات میں تبلیغ کرنے کے لئے ایک لاکھ مبلغین کی ضرورت ہے۔ایک مبلغ کا کم سے کم خرچ جو در حقیقت بعض حالات میں نقصان دہ ہوتا ہے اور جس میں لٹریچر وغیرہ کے اخراجات بھی شامل ہیں اگر پچاس روپیہ فرض کیا جائے تو اندازاً پچاس لاکھ روپیہ ماہوار کی ہمیں ضرورت ہوگی۔اب یا تو ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس روپیہ کو اکٹھا کریں اور یا پھر ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور کہیں کہ اگر خدا کو منظور ہوا تو ایسا ہو جائے گا اور اگر خدا کو منظور نہ ہوا تو نہ ہوگا۔مگر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ کوئی معقول بات نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور کہیں کہ اگر خدا کو منظور ہوا تو ایسا ہو جائے گا ورنہ نہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے جبری قانون دنیا میں جاری کرنا ہوتا تو اُسے کسی مامور کو بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔اُس کا اپنے ایک مامور کو دنیا میں بھیجنا ، لوگوں کو اُس پر ایمان لانے کی تحریک کرنا، قربانی اور ایثار کا سبق دینا ، کوشش اور جدوجہد کی ترغیب دینا اور لوگوں کی ہدایت کا کام اپنی جماعت کے سپر د کرنا بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ رہیں اور کہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کی مرضی ہوئی تو ہدایت پھیل جائے گی اور اگر خدا کی مرضی نہ ہوئی تو ہدایت نہیں پھیلے گی۔اگر خدا تعالیٰ کے ایک مامور پر ایمان لانے کے بعد بھی ہم یہی کہتے ہیں تو ہماری مثال بالکل ایسی ہی ہو جاتی ہے جیسے عورتوں سے بعض دفعہ کسی بات کے متعلق پوچھا جائے کہ اس بارہ میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو وہ کہہ دیتی ہیں کہ جس طرح آپ کی مرضی۔حالانکہ پوچھنے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس وقت میں اپنی مرضی نہیں بلکہ تمہاری مرضی دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کیا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ جب اپنا مامور دنیا کی اصلاح کے لئے