خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 109

خطابات شوری جلد سوم ۱۰۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء کے لئے زمین خرید رہا ہے اور اس کے بڑھانے کی فکر میں ہے۔ مگر اُسے نہیں فکر تو سلسلہ کی ضرورتوں کی ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ آمد بڑھانے کیلئے نئے ذرائع اختیار کئے جائیں مکرم ناظر صاحب بیت المال نے سب کمیٹی مال کی رپورٹ ۔ پیش کرتے ہوئے آمد بڑھانے کی کچھ تجاویز بیان کیں ۔ اس کے بعد حضور نے فرمایا:- ”اِس وقت جماعت کے سامنے سب سے پہلے بجٹ غور کے لئے پیش ہو گا ، اُس کی آمد بھی اور اُس کا خرچ بھی ۔ اس وقت تک وقت کی کمی کی وجہ سے آمد پر بہت کم بحث کی جاتی تھی ۔ زیادہ تر خرچ پر بحث کرنے میں ہی وقت کو صرف کر دیا جاتا تھا لیکن جہاں تک اقتصادیات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے خرچ سے آمد کا مسئلہ کم اہم نہیں ہوتا ۔ بہت سی مدات ایسی ہوتی ہیں جن کے ذریعہ آمد نیں بڑھائی جا سکتی ہیں اور قوموں نے بڑھائی ہیں ۔ ہندوستان اپنی چالیس کروڑ آبادی کے ساتھ قبل از جنگ ایک ارب روپیہ کا بجٹ رکھتا تھا ۔ جبکہ انگلستان صرف چار کروڑ آبادی کے ساتھ ستر کروڑ پاؤنڈ کا بجٹ رکھتا تھا۔ ستر کروڑ پونڈ کے معنے ہیں سو انو ارب کا بجٹ ۔ گویا دس فی صدی آبادی اپنا دس گنا زیادہ بجٹ بناتی تھی اور دس گنا زیادہ آبادی رکھنے والا ملک دس حصہ کم بجٹ بناتا تھا۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ ہر ہندوستانی جتنی رقم دیتا ہے، اُس سے سوگئی رقم انگلستان کا آدمی دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اُن ملکوں میں خرچ کی نسبت آمد پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خرچ کی غلطی سے تو صرف چند روپوں کا فرق پڑے گا مگر آمدنی کی غلطی سے ہزاروں روپیہ کا فرق پڑ جائے گا ۔ جب آمد پر صحیح طور پر غور کیا جائے تو اُس کے بڑھانے کے وسائل بھی نئے سے نئے نکل آتے ہیں اور اُن پر غور کر کے انسان صحیح نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال میں نے فیصلہ کیا تھا کہ بجائے اس کے کہ دوسرے مطالب کو پہلے لیا جائے ، سب سے پہلے بجٹ پر غور کیا جائے اور اگر بجٹ پر غور کرنے کی وجہ سے دوسرے مسائل زیر بحث نہ آسکیں تو اُن کے لئے سال میں مشاورت کا ایک دوسرا اجلاس منعقد کر لیا جائے ۔ اس فیصلہ کے ماتحت آج سب سے پہلے آپ لوگوں کے سامنے بجٹ پیش کیا جا رہا ہے