خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 108

خطابات شوری جلد سوم I+A مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء ایک بہت بڑا پروگرام بنایا ہوا ہے تو وہ پروگرام پیش کرنا چاہئے تھا جو اس وقت ہمارے سامنے نہیں ہے۔پس نہیں کہا جا سکتا کہ کس بناء پر انہوں نے اس تجویز کو رڈ کیا ہے۔بہر حال اُن کا تجاویز کو رڈ کر دینا ہی کافی نہیں بلکہ اُن کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اُن کو رڈ کرنے کی وجوہ بھی بیان کریں اور در حقیقت اگر وہ غور کریں تو اُن کا اپنا فائدہ اسی میں ہے۔اگر وہ محض تجاویز پیش کر دیں اور اُن کو رڈ کرنے کے وجوہ بیان نہ کریں تو لوگ کہیں گے انجمن والے کیسے کم عقل ہیں کہ جن باتوں میں اُن کی اپنی عزت اور نیک نامی ہے، اُن کو بھی وہ رڈ کر رہے ہیں۔پس انجمن کے ناظر اگر دنیا کی نگاہ میں کم عقل بننا نہیں چاہتے تو وہ تجاویز کو ر ڈ کرنے کے ساتھ ہی دلیل بھی دیا کریں تا کہ لوگ سمجھ سکیں کہ محض قلت تدبر سے نہیں بلکہ کسی معقولیت کی بناء پر ان کو رڈ کیا گیا ہے۔جیسے میں نے بتایا ہے کہ ہسپتال کے متعلق جو تجویز آئی تھی اُس کو رڈ کرنے کی کوئی وجہ میری سمجھ میں بھی نہیں آتی اور یہ تو صرف ایک مثال ہے اور بھی کئی ایسی تجاویز ہیں جن کو رڈ کرنے کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔اور چونکہ کوئی دلیل نہیں دی گئی اس لئے ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اُن تجاویز کو کیوں رڈ کیا گیا ہے۔بہر حال یہ بات جو خرید زمین کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اتنی اہم اور اتنی ضروری ہے کہ اگر فوری طور پر اس کی طرف توجہ نہ کی گئی تو ہمارا سارا ریز روفنڈ یہ زمین کھا جائے گی۔تم خواہ چھپیس لاکھ ریز روفنڈ قائم کر لو اور سلسلہ کی ضروریات کے لئے زمینیں نہ خرید و وہ دن یقیناً آنے والے ہیں کہ پھر زمینیں خریدنے کے لئے ہمارا سارے کا سارا ریز رو فنڈ بھی کافی نہیں ہوگا۔مثلاً لاہور میں ہی اگر بعض ادارے ہم وسیع کرنا چاہیں تو ایک کروڑ روپیہ کافی نہیں ہوسکتا۔اس صورت میں ہمارا ریز روفنڈ بالکل لغو اور فضول ہو جائے گا اور وہ سلسلہ کی آمد کو وسیع کرنے یا مستقل اخراجات کو چلانے کے لئے نہیں بلکہ زمین خریدنے کے لئے بھی بمشکل کافی ہوگا اس لئے صدر انجمن احمدیہ کو چاہئے کہ وہ ابھی سے اِس طرف توجہ کرے اور پوری ہوشیاری اور بیداری کے ساتھ آنے والے حالات پر غور کر کے سلسلہ کی ضروریات کے لئے پانچ سو ایکڑ زمین خریدنے کا فکر کرے۔مجھے شرم اور ندامت سے سر جُھکانا پڑتا ہے کہ باوجود اس باوقت انتباہ کے انجمن نے ایک سال گزر جانے پر بھی کچھ نہیں کیا۔انجمن کا قریباً ہر مہر اپنی ذات