خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 107
خطابات شوری جلد سوم - مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء چا را یکٹر زمین کی تجویز کو مستر د کر رہی ہے اور حالت یہ ہے کہ ہمیں کالج اور ہسپتال اور لائبریری اور دوسرے اداروں کے لئے پانچ سو ایکٹر مزید زمین کی ضرورت ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ وہی پانچ سو ایکڑ جو پہلے ۲۵ ۳۰ ہزار یا پچاس ہزار میں خریدا جا سکتا تھا آج پانچ لاکھ روپیہ میں خریدا جا سکتا ہے اور اگر انجمن اب بھی غفلت کرے گی تو پانچ لاکھ نہیں پچاس لاکھ میں یہ زمین ملے گی اور پھر بھی سلسلہ کی ضروریات پوری نہیں ہوں گی۔انجمن کے سامنے نمونہ موجود ہے۔اس نے گرلز سکول قائم کیا۔یہ سکول جس دن سے قائم ہوا میں نے اُسی دن سے انجمن والوں سے کہنا شروع کر دیا کہ اس کے ارد گرد زمین لے لو ورنہ مشکلات بڑھ جائیں گی۔اُس وقت دوسو روپیہ کنال زمین بکتی تھی مگر انہوں نے شستی کی اور سمجھا کہ ہم اتنا روپیہ کیوں ضائع کریں۔اس کے بعد خدا تعالیٰ کی اس سنت کے مطابق جو ہمارے سلسلہ کے ساتھ ہے سکول نے بڑھنا شروع کیا اور جس طرح بچے کے کپڑے جو ان کے کام نہیں آسکتے اسی طرح سکول کے کمرے نا کافی ثابت ہوئے اور انجمن والے مجبور ہوئے کہ وہ سکول کے لئے اور زمین خریدیں۔جب وہ مارکیٹ میں گئے تو انہوں نے دیکھا کہ لوگ پانچ سو سے ہزار روپیہ تک ایک کنال زمین کی قیمت مانگتے ہیں، انجمن والوں نے پھر بھی توجہ نہ کی اور انہوں نے سمجھا کہ لوگ ہمیں خواہ مخواہ دق کرتے ہیں اور وہ گراں قیمت پر ہمارے پاس فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ہم دیکھیں گے کہ اس قیمت پر کون اُن سے زمین خریدتا ہے۔مگر اُن کی آنکھیں اُس وقت کھلیں جب دو ہزار روپیہ فی کنال اُن کو جماعت کے خزانہ میں سے دینا پڑا اور اب تو قادیان کی بعض زمینیں جن کا خریدنا سلسلہ کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ زمینوں والے بیس بیس ہزار روپیہ فی کنال مانگتے ہیں۔حالانکہ یہی زمینیں دو دو سو روپیہ کنال پر مل سکتی تھیں۔پس میں حیران ہوں کہ انجمن نے ہسپتال کے لئے چارا یکٹر زمین خریدنے کی تجویز کو کس بنیاد پر رڈ کیا ہے۔اگر تو اس بنیاد پر یہ تجویز رڈ کی گئی ہے کہ اس کی ضرورت نہیں تو یہ بالکل خلاف عقل بات ہے۔اگر وہ چار ایکڑ زمین اس وقت ایک ہزار روپیہ فی ایکٹر خریدنے پر تیار نہیں ہیں تو کل یہی زمین پچاس ہزار روپیہ فی ایکڑ وہ خریدنے پر مجبور ہوں گے۔اور اگر اس تجویز کو رڈ کرتے وقت اُن کے مد نظر یہ تھا کہ اتنی تھوڑی زمین ہماری ضروریات کے لئے کافی نہیں، ہم نے