خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 106
خطابات شوری جلد سوم ۱۰۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء ہمارے ادارے جس وقت قائم ہوئے تھے اُس وقت خیال کیا جاتا تھا کہ ہم نے اسراف سے کام لیا ہے اور ضرورت سے بہت زیادہ جگہ لے لی ہے مگر واقعات نے ثابت کر دیا کہ اب جگہیں اتنی تنگ ہو چکی ہیں کہ اُن میں ہمارا گزارہ کرنا بالکل ناممکن ہو گیا ہے۔یہی جگہ جو ہائی سکول کے لئے لی گئی تھی اس کو اتنا بڑا سمجھا گیا تھا کہ اس کے بعض ٹکڑے مکانات کے لئے فروخت کر دیئے گئے تھے۔بعد میں اُن میں ہسپتال بھی بنا لیا گیا اور سمجھا گیا کہ باقی جگہ سکول کے لئے کافی ہو گی۔مگر اب معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ ساری کی ساری زمین سکول کے لئے ہی رہتی تب بھی وہ سکول کی ضروریات کے لئے بمشکل کافی ہوتی۔اور اب تو جگہ کی قلت کی وجہ سے سکول کی عمارت کا لج کو دے دی گئی ہے اور سکول کے لئے اسی زمین میں ایک نئی عمارت بنائی گئی ہے مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نہ کالج کے لئے کھیلنے کے لئے زمین باقی ہے اور نہ سکول کے لئے کافی زمین ہے۔یہی حال ہسپتال کا ہے۔ایک چھوٹی سی جگہ میں اُسے سمٹ سمٹا کر رکھا گیا ہے۔جس طرح تھرڈ کلاس پینجرز اپنا اسباب تھوڑی سی جگہ میں اوپر نیچے رکھ لیتے ہیں۔مگر اُن کو تو پھر بھی اطمینان ہوتا ہے کہ ہم دو تین گھنٹہ کے بعد گاڑی سے اُتر جائیں گے مگر ان کے لئے یہ بات بھی نہیں۔اگر ہسپتال کے لئے کسی اور جگہ کا انتظام نہ کیا گیا تو ہسپتال میں کام کرنے والوں کی عمریں اسی تنگ جگہ میں گزر جائیں گی اور مریضوں کے صحیح علاج میں وہ کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔حقیقت تو یہ ہے کہ آج سے کئی سال پہلے صدر انجمن احمدیہ کو اپنے اداروں کے لئے زمین خریدنے کا فکر کرنا چاہئے تھا اور بڑھتے ہوئے کام کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو ہوشیار ہو جانا چاہئے تھا کہ کہیں ہمارے لئے مشکلات پیدا نہ ہو جائیں مگر اب حالت یہ ہے کہ وہی قادیان جہاں باره بارہ تیرہ تیرہ روپیہ مرلہ زمین پکتی تھی اور لوگ کہتے تھے ہمیں لوٹا جاتا ہے۔اسی قادیان میں ہزار ہزار روپیہ مرلہ پر بھی زمین خریدی گئی ہے اور سو روپیہ مرلہ زمین تو عام طور پر فروخت ہو رہی ہے۔اسی طرح وہ علاقے جہاں پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ روپیہ گھماؤں زمین مل جاتی تھی ، وہاں اس زمین کی قیمت ایک ہزار روپیدا یکٹر تک پہنچ گئی ہے۔میں نے اندازہ لگایا ہے ہماری ادنی ضرورتیں جو دس بارہ سال کے قریب ترین عرصہ میں ہمیں پیش آسکتی ہیں اُن کے لئے ہمیں پانچ سو ایکٹر زمین کی ضرورت ہے۔انجمن احمد یہ تو ہسپتال کے لئے۔