خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 99

خطابات شوری جلد سو ۹۹ مشاورت ۱۹۴۴ء حدیث نہیں ملتی جس میں صحابہ کا یہ قول درج ہو کہ اب کیا ہو گا۔پھر ایسی ایسی جنگوں کا بھی تاریخ اسلام سے ثبوت ملتا ہے جن میں سے ایک ایک جنگ میں بعض دفعہ سو سو کے قریب صحابی کا نے یا اندھے ہو گئے۔عیسائی اس طرح تاک کر نشانہ لگاتے کہ تیرسید ھے اُن کی آنکھوں میں آکر لگتے اور وہ اندھے یا کانے ہو جاتے۔یہ قربانیاں ہیں جو صحابہ نے کیں مگر ان قربانیوں کے باوجود کسی ایک کی زبان سے بھی یہ فقرہ نہیں نکلا کہ اب کیا ہوگا۔فلاں صحابی تو مر گیا ، فلاں صحابی تو نا کارہ ہو گیا۔یہ روح ہے جو ہمیں اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے کیونکہ یہی روح ہے جو قوموں کو کامیاب بنایا کرتی ہے۔ہمارے لئے یہ خطرہ کی بات نہیں ہے کہ حضرت خلیفہ اول بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا مولوی عبد الکریم صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے۔یا مولوی برہان الدین صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے۔یا حافظ روشن علی صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے۔یا قاضی امیر حسین صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے۔یا میر محمد اسحاق صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے بلکہ ہمارے لئے خطرہ کی بات یہ ہے کہ جماعت کسی وقت بحیثیت جماعت مرجائے اور ایک عالم کی جگہ دوسرا عالم ہمیں اپنی جماعت میں دکھائی نہ دے۔پس اپنے آپ کو اس مقام پر لاؤ اور جلد جلد ترقی کی طرف اپنے قدموں کو بڑھاؤ۔میں نہیں جانتا کہ جب خدا نے میرے متعلق یہ کہا ہے کہ میں جلد جلد بڑھوں گا تو اس کا یہ مطلب ہے کہ میری موت جلد آنے والی ہے یا یہ مطلب ہے کہ میں جلد جلد ترقی کی منازل طے کرتا چلا جاؤں گا۔تم ان دو میں سے کوئی بھی پہلو لے لو۔بہر حال اس امر کو اچھی طرح یا درکھو کہ اب جماعت میں سے وہی شخص اپنے ایمان کو سلامت رکھ سکے گا اور وہی با ایمان مرسکے گا جو خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت اور اس کے سلسلہ کی ترقی کے لئے جلد جلد قدم اُٹھائے گا۔اگر تمہارا جرنیل دشمن کی فوج پر حملہ کر دے اور تم آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے رہو تو کون تمہیں وفادار کہہ سکتا ہے؟ کون تمہاری اطاعت کا قائل ہوسکتا ہے؟ کون تمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھ سکتا ہے؟ جب خدا نے مجھے کہا کہ میں جلد جلد قدم بڑھاؤں گا اور جب خدا نے مجھے یہ نظارہ دکھایا کہ میں بھاگتا چلا جا رہا ہوں اور زمین میرے پاؤں کے نیچے سمٹتی چلی جارہی ہے تو درحقیقت خدا نے تم کو کہا کہ تم جلد جلد بڑھو اور