خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 98

خطابات شوری جلد سوم ۹۸ مشاورت ۱۹۴۴ء ایک عثمان مرے تو اُس کی جگہ اور عثمان کام کرنے والے موجود ہوں اور جب ایک علی میرے تو اُس کی جگہ اور علی کام کرنے کے لئے موجود ہوں۔جو قوم اس مقام پر آ جائے وہ کبھی مر نہیں سکتی ، وہ کبھی مٹ نہیں سکتی، وہ کبھی فنا اور بر باد نہیں ہوسکتی۔وہ زندہ رہتی ہے، وہ ابدی حیات پاتی ہے اور وہی قوم ہے جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں خاتم الاقوام کہلاتی ہے۔جیسے محمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب نبیوں سے افضل ہیں اسی طرح وہ قوم تمام اقوام سے افضل کہلائے گی اور دنیا کی قو میں مجبور ہوں گی کہ اُس کے طریق پر چلیں۔جب تک یہ حالت کسی قوم کی نہ ہو اُس وقت تک وہ خطرہ سے باہر نہیں ہوسکتی، وہ اپنے تنزل کے خوف سے بے پرواہ نہیں ہوسکتی کیونکہ خوف سے وہی بے پرواہ ہوسکتا ہے جو ایمان کے کمال تک پہنچ چکا ہو۔جیسے قرآن کریم نے کامل مومنوں کے متعلق بیان فرمایا کہ لاخوف عليهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُون لے میری طرف سے اب یہ کوشش کی جارہی ہے کہ جماعت میں ایسے لوگ پیدا ہوں جو اہم علوم کے ماہر ہوں۔تا کہ ہم اپنی اس حقیر کوشش کے ذریعہ ایک ایسا بیج قائم کر دیں جو آئندہ ترقی کر کے جماعت کے لئے با برکت اور مفید ثابت ہو سکے۔دیکھو صحابہ کرام میں علم کس قدر وسیع طور پر پھیلا ہوا تھا کہ ایک قوم کے چند افراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کچھ مبلغ بھجوائے جائیں جو ہماری قوم کو اسلام کی تعلیم سے آگاہ کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کی درخواست کو منظور فرماتے ہوئے ستر (۷۰) قاری اُن کے ساتھ روانہ کر دیئے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ میں علم حاصل کرنے کا کس قدر اشتیاق تھا۔آج تعلیم کا زمانہ ہے اور ہماری جماعت لاکھوں تک پہنچ چکی ہے مگر آج بھی اگر ہم کسی ایک مقام میں رہنے والوں کے لئے ستر قاری مہیا کرنا چاہیں تو مہیا نہیں کر سکتے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ستر قاری اُسی وقت بھجوا دیئے۔اُس قوم کے بدمعاش افراد نے دھوکا بازی سے کام لے کر تمام کو شہید کر دیا جس کا رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو طبعی طور پر سخت صدمہ ہوا مگر کوئی ایک حدیث بھی ایسی نہیں ملتی جس میں یہ ذکر آتا ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہو اب کیا ہو گا۔اسی طرح کوئی ایسی