خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 91

خطابات شوری جلد سوم ۹۱ مشاورت ۱۹۴۴ء ایک کتاب ہے۔اگر کوئی شخص کہے کہ میں نے فلاں سے وہ کتاب پڑھی۔اُس نے فلاں سے کتاب پڑھی تھی اور اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ کتاب پڑھی تھی تو اس کا اثر بالکل اور ہو گا لیکن اگر کوئی شخص اپنے طور پر کتاب پڑھ لے تو اس کا اثر اور ہوگا۔پس یہ رنگ ہے جو ہماری جماعت کو اختیار کرنا چاہئے۔جب یہ رنگ اختیار کرو گے تب صحیح علم پیدا ہوگا اور صحیح علم کے بعد صحیح معرفت پیدا ہوگی اور صحیح معرفت کے بعد صحیح عمل کی قوت پیدا ہوگی۔سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام میں ہی بنا دینا چاہتا ہوں کہ میں نے جہاں کالج کی تجویز کی ہے وہاں ایک سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی میں نے قائم کی ہے جو سائنس کے مسائل کے متعلق اپنی تحقیق کا سلسلہ جاری کرے گی۔چوہدری عبدالاحد صاحب ایم ایس سی جو لائل پور میں تھے اُنہوں نے اپنی زندگی وقف کی ہے اور میں نے اس کام کی نگرانی اُن کے سپرد کی ہے۔چار اور نو جوان بھی سائنس کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ایک نے تو بی ایس سی کا امتحان دے دیا ہے اور اب وہ ایم ایس سی میں داخل ہو گا۔باقی تین نے ابھی ایف ایس سی پاس کیا ہے اور وہ بی ایس سی کے پہلے سال میں داخل ہیں۔یہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جہاں ایک طرف علمی ترقی میں محمد ہوگی وہاں اس کی یہ بھی کوشش ہو گی کہ اسلام پر جن علوم کے ذریعہ اعتراضات کئے جاتے ہیں اُن کو سائنس کی تحقیقات کی روشنی میں اسلام کے لئے مُمد ثابت کیا جائے اور بتایا جائے کہ ان علوم کو اسلام کے خلاف پیش کرنا غلطی ہے یہ علوم تو خود اسلام کی صداقت ظاہر کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی اس سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ ایسی ایجادات کی بھی کوشش کی جائے گی جو تجارتی طور پر سلسلہ کے اموال کی مضبوطی کا باعث ہوں اور عملی طور پر جماعت کا رُعب اور وقار قائم کرنے والی ہوں۔اگر یہ انسٹی ٹیوٹ خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنے کام میں کامیاب ہو گئی تو مدراس، بمبئی، دہلی اور الہ آباد وغیرہ کے سائنس دان اور اعلی علمی پایہ رکھنے والے لوگ جو اب تک قادیان نہیں آئے شوق سے قادیان آئیں گے اور سمجھیں گے کہ یہ جماعت ایسا کام کر رہی ہے جو دنیا کی ترقی کے لئے بہت مفید ہے۔اسی طرح جب صنعت و حرفت کے میدان میں بعض ایجادات پیش کی گئیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے مالی لحاظ سے بھی بہت کچھ ترقی کی امید ہے۔انہوں نے ایک تجویز بتائی ہے جو میرے