خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 89
خطابات شوری جلد سوم ۸۹ مشاورت ۱۹۴۴ء یہ طریق ہے جس سے کام لے کر جماعت اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتی ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ ہمارے ملک کے لوگوں میں عام طور پر یہ نقص پایا جاتا ہے کہ وہ زبان کے چسکے کے عادی ہوتے ہیں۔وہ باتیں سنتے ہیں سن کر جھومتے ہیں، کبھی کبھی سُبْحَانَ اللہ کے الفاظ بھی اُن کے منہ سے سنائی دیتے ہیں مگر جب مجلس سے اُٹھتے ہیں تو اُن کے دل اور دماغ پر کوئی ایک بات بھی نقش نہیں ہوتی اور اگر اُن سے کوئی بات پوچھی جائے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں تو یاد نہیں رہا کہ کیا کہا گیا تھا۔وفات مسیح پر اُن کے سامنے بیسیوں دلائل دیتے چلے جاؤ۔یوں معلوم ہوگا کہ ایک ایک لفظ اُن کے دلوں میں گڑتا چلا جاتا ہے مگر جب اُن سے کہا جائے کہ دو دلیلیں ہی سنا دو تو کھسیانے ہو کر کہہ دیں گے کہ ہمیں تو یاد نہیں ہیں۔حالانکہ کسی ایک دلیل یا کسی ایک بات کو یاد رکھنا زیادہ بہتر ہوتا ہے بہ نسبت اس بات کے کہ انسان ہزار باتیں سنے۔کسی پر سُبحَانَ اللہ کہے، کسی پر سر مارنے لگ جائے اور جب اُٹھے تو ویسا ہی کو را ہو جیسے آتے وقت کو را تھا۔مگر یہ نقص اُسی وقت دور ہوسکتا ہے جب لوگ یہاں بار بار آئیں، تمام باتوں کو نوٹ کریں اور پھر جماعتوں میں واپس جا کر درس کے طور پر اُن تمام لوگوں کے سامنے بیان کریں۔جس طرح قرآن کا درس ہوتا ہے یا حدیث کا درس ہوتا ہے اسی طرح ضروری ہے کہ مجالس میں جو باتیں ہوتی ہیں اُن کا بھی جماعتوں میں باقاعدہ درس دیا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن اور حدیث کا جو علم اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمایا ہے، وہی موجودہ زمانہ کے مفاسد کا صحیح ترین علاج ہے، اگر ان باتوں کو چھوڑ کر کوئی شخص اسلام کی خدمت کرنا چاہے تو وہ کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔بے شک قرآن وہی ہے جو پہلے تھا، حدیث وہی ہے جو پہلے تھی، مگر اس زمانہ کے لحاظ سے جو کچھ علوم خدا تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائے ہیں صرف وہی علوم اس زمانہ میں کام آسکتے ہیں ، وہی اعتراضات کا رڈ کر سکتے ہیں اور انہی کے ذریعہ اسلام کا حُسن پھر دنیا پر اپنی پوری شان کے ساتھ ظاہر ہوسکتا ہے۔پس ضروری ہے کہ جماعتیں ان باتوں کا درس دیں اور پھر اس طرح بار بار ہر شخص کے سامنے دُہراتے رہیں جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم ہر شخص کے سامنے حدیثیں بیان کرتے تھے اور سنایا کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں موقع پر