خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 83

خطابات شوری جلد دوم ۸۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء خرچ کا جو اندازہ بھیجا ہے وہ یہ ہے کہ اگر دس ہزار قرآن کریم چھپوائیں تو ۹ شلنگ فی قرآن خرچ آئے گا ۔ یعنی نوے ہزار شلنگ ۴ ہزار پونڈ جو ساٹھ ہزار روپیہ کے قریب بنتا ہے۔ گویا ۶ روپے فی قرآن لاگت آتی ہے۔ ممکن ہے خرچ اس سے بڑھ جائے اور ممکن ہے کم ہو جائے ۔ دوستوں کو اس کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے ۔ اگر ابھی سے اس کے خریدار بنا لئے جائیں تو قرآن کریم کے چھتے ہی رقم مل سکتی ہے۔ ایک اور تجویز بھی زیر غور ہے اور وہ یہ کہ آکسفورڈ کا ایک مشہور پر لیس ہے۔ اُس نے اپنے سرمایہ سے قرآن کریم چھاپنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کی طرف سے شرائط آنے پر فیصلہ ہو سکے گا کہ ہم انہیں منظور کر سکتے ہیں یا نہیں ۔ اخبارات کی اشاعت بڑھائی بڑھائی جائے (۸)۔ آٹھویں بات یہ ہے کہ کئی بار اخبارات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے مگر اب تک پوری تکہ توجہ جماعت نے نہیں کی ۔ بعض جگہ الفضل کی ایجنسیاں قائم کی گئی تھیں الفضل والے شکایت کرتے ہیں کہ ایجنٹ محنت نہیں کرتے اور بعض الفضل“ کی رقم ادا نہیں کرتے۔ یہ نہایت افسوس ناک بات ہے۔ مومن کے متعلق تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اس کے پاس قنطار ہوں تو اُن میں بھی خیانت نہیں کرتا۔ ”الفضل کی بکری کی رقم ہی کتنی بنتی ہے کہ وہ بھی ادا نہیں کی جاتی ۔ جہاں ”الفضل کی ایجنسی کا بقایا ہو وہاں کے احباب کو اس کے ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اخبار کی اشاعت بڑھانی چاہئے ۔ الفضل کی اشاعت کم از کم ۴، ۵ ہزار ہونی چاہئے ۔ اب ۱۷، ۱۸ سو اس کی عام بکری ہے۔ خطبہ نمبر کچھ زیادہ چھپتا ہے۔ سن رائز والے بھی شکایت کرتے ہیں کہ اشاعت کم ہے حالانکہ اس کے ذریعہ انگریزی جاننے والے لوگوں میں اچھا کام ہو رہا ہے۔ اور غیر مبائعین ان لوگوں میں جو زہر پھیلاتے ہیں اس کا علاج سن رائز کے ذریعہ اچھی طرح ہو رہا ہے۔ میں اخبار کی ایجنسیاں قائم کرنے کی تحریک اخبارات کی ترقی کے لئے ہی نہیں کرتا بلکہ بے کاروں کو کام پر لگانے کے کی لئے بھی کرتا کرتا ۔ ہوں ۔ میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ اگر کوئی شخص مہینہ میں ایک روپیہ بھی کما سکتا ہے تو بھی وہ ضرور کام کرے۔ جب تک ہم اس طرف توجہ نہ کریں گے اُس وقت تک به حیثیت جماعت نہ روحانیت مضبوط ہوگی اور نہ دُنیوی حالت ۔ یہ خیال کہ اتنی آمد ہو تب