خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 78

خطابات شوری جلد دوم ZA مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء لکڑی اور چمڑے اور شیشے کے کام شروع کئے گئے ہیں اور آئندہ کپڑا بننے کا کام اور دوا سازی کا کام شروع کرنے کا ارادہ ہے۔کارخانوں کے حصے خریدے جائیں ان کاموں کے لئے اصول یہ رکھا ہے کہ جن کاموں کی ابتداء تحریک جدید کی طرف سے ہو اُن میں کم سے کم ۵۰ فیصدی سرمایہ تحریک جدید کا ہو اور باقی ۵۰ فیصدی تک دوستوں کو شامل ہونے کی اجازت دی جائے اور جو دوست حصہ لینا چاہیں ان میں سے غرباء کو اس طرح حصہ لینے کی اجازت دی جائے کہ وہ دس روپیہ ماہوار کر کے حصہ لے لیں تا کہ غرباء بھی شامل ہوسکیں بلکہ کارخانہ کے کاریگروں کو اس سے کم قسط میں حصہ ڈالنے کی بھی اجازت دی جائے۔اِس طرح ان دوستوں کو کارخانوں سے دلچپسی بھی پیدا ہو جائے گی اور زیادہ سے زیادہ احباب حصہ لے سکیں گے۔پس ایک تو میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ ان کارخانوں میں جو تحریک جدید نے چلائے ہیں جو دوست چاہیں حصہ دار بن سکتے ہیں۔مگر کم از کم سو روپیہ کا حصہ ڈالنا ضروری ہوگا جو قسط وار بھی لیا جا سکتا ہے اور دس مہینے میں وہ حصہ ادا کر دیا جائے یعنی جتنے حصے کوئی دوست خریدیں اُن کے روپیہ کے دس حصے کر کے دس ماہ میں ادا کر دیں۔ہوزری اور شیشے کے کام دوسروں کے ہیں۔یعنی وہ تحریک جدید کے ماتحت نہیں گو اُن میں حصہ تحریک جدید کا ہے اس لئے اُن کے حصے اُن کے تجویز کردہ قواعد کے ماتحت لئے جاسکتے ہیں۔ضروریات قادیان کے کارخانوں سے خریدیں دوسری بات یہ ہے کہ میں دوستوں کو پھر اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اپنی ضرورتیں جہاں تک ممکن ہو ان کارخانوں کے ذریعہ پوری کریں۔اس طرح سلسلہ کی مدد بھی ہوگی اور غرباء کی بھی۔کیونکہ ان کارخانوں میں غرباء کو اچھے اور اعلیٰ پایہ کے پیشے سکھائے جائیں گے اور جو لوگ اپنے کاموں میں ماہر ثابت ہوں گے اُن کو ملازم رکھ لیا جائے گا یا حصہ دار بنا لیا جائے گا اور جو ملازمت کرنا چاہیں گے انہیں باہر ملازم کرانے کی کوشش کی جائے گی۔