خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 77
خطابات شوری جلد دوم LL مجلس مشا مشاورت ۱۹۳۶ء در مجلس شوری کا کام خدا تعالیٰ کے فضل سے ختم ہو چکا ہے لیکن پیشتر اس کے کہ آخری چند نصائح کر کے میں احباب کو رخصت کروں چند باتیں پھر دُہرا دیتا ہوں تاکہ دوست واپسی پر اپنی اپنی جماعت کے دوستوں کو ان کی طرف توجہ دلا سکیں اور خود ان کے ذہنوں میں بھی یہ باتیں حاضر ر ہیں۔صنعت و حرفت کے کام پہلی بات یہ ہے کہ میں نے کل دوستوں کو بتایا تھا کہ جماعت کے لوگوں میں سے بیکاری کو دور کر کے جماعت کی مالی حالت مضبوط کرنے کے لئے کچھ کام یہاں جاری کئے گئے ہیں۔ان کاموں کے جاری کرنے میں یہ بات مدنظر ہے کہ ہم آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچ جائیں کہ اپنی ساری ضرورتیں خود پوری کر سکیں اور دوسری اقوام کی ضرورتیں پوری کرنے میں بھی حصہ لے سکیں۔اس وقت غیر ہندوستانی طاقتیں ہندوستان میں اتنی قوت پکڑ چکی ہیں کہ تجارتی طور پر ہمارا ملک ان کے مقابلہ میں عاجز آ رہا ہے اور یہ بات انسانی طاقت سے بالا معلوم ہوتی ہے کہ کوئی جماعت اس کی اصلاح کی کوشش کرے کہ ہندوستانی تجارت وصنعت دوسری قوموں کی تجارت اور صنعت کے مقابلہ میں ٹھہر سکے لیکن ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے دوسری اقوام پر ایک فضیلت حاصل ہے اور وہ یہ کہ یہ منظم جماعت ہے ایک ہاتھ پر اس نے بیعت کی ہوئی ہے۔ہماری جماعت میں بہت سے مخلص ہیں لیکن سب کے سب نے یہ اقرار کیا ہوا ہے کہ ہر قسم کے احکام کی فرمانبرداری کریں گے۔مگر سب سے زیادہ مشکلات بھی ہماری جماعت کے لئے ہی ہیں اور جتنی روکیں ہمارے رستے میں حائل ہیں کسی اور کے رستہ میں اتنی نہیں۔کہتے ہیں نزلہ بر عضو ضعیف مے ریزد۔ہم چونکہ کمزور ہیں اس لئے دوسری طاقتیں ہمارے خلاف جتھہ کر کے ہمارے خلاف کھڑی ہیں اور ہمیں تجارت میں، ملازمت میں، صنعت و حرفت میں سخت وقتیں پیش آرہی ہیں۔اہلِ ہند میں سے مسلمان گرے ہوئے ہیں اور ہم مسلمانوں میں سے سب سے زیادہ مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔دوسری قوموں نے مسلمانوں سے بائیکاٹ کر رکھا ہے اور دوسروں سے مار کھائے ہوئے مسلمان ہم پر حملہ کر رہے ہیں۔ایسی صورت میں ہمارے لئے زیادہ ضروری ہے کہ ہم ان مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کریں۔اِن امور کو مدنظر رکھتے ہوئے لو ہے اور