خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 72

خطابات شوری جلد دوم ۷۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء جاسکتا ہے جو کارکنوں کی تنخواہ کی صورت میں کرنا پڑے۔اگر کسی اور کو اتنا روپیہ دیا جاتا تو وہ اس وقت تک ۱۵،۱۰ ہزار نفع اُٹھا چکا ہوتا۔۷۵ فیصدی امانتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو تجارتوں میں لگا سکتے ہیں۔کوئی امانت ایسی ہوتی ہے جو دس سال کے بعد ادا کرنی ہوتی ہے، کوئی دو چار سال بعد، کوئی سال چھ ماہ بعد۔اس طرح ہم کافی نفع حاصل کر سکتے ہیں۔پس بینکنگ کی مڈا لگ دکھائی جائے اور اس سے جو نفع ہو وہ بھی ضرور دکھاؤ۔اس طرح بھی لوگوں کو اس مد میں روپیہ جمع کرانے کا شوق پیدا ہوگا اور اس کا فائدہ سلسلہ کو پہنچے گا۔ضیاء الحق صاحب نے کہا ہے کہ وصایا کے بقائے زیادہ ہیں۔جو کمیٹی مقرر ہو وہ اس کے متعلق بھی غور کرے۔(۱۱)۔جائدادوں کی فروخت کی تجویز پیش کی گئی ہے۔اگر انجمن کے پاس ایسی جائدادیں ہیں جو سلسلہ کی ضروریات سے زائد ہیں اور فروخت ہو سکتی ہیں مگر فروخت نہیں ہوئیں تو اس پر بھی کمیشن غور کرے تا کہ فروخت کرنے کی ہدایت دی جائے۔پیرا کبر علی صاحب نے کہا ہے کہ اگر چندہ با قاعدہ وصول ہوتا رہے بقایا نہ ہو تو پھر شرح چندہ بڑھانے کی ضرورت نہیں۔بات یہ ہے کہ حکومت طاقت کے ذریعہ ٹیکس وصول کرتی ہے مگر ہم تجارت کے طور پر لیتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے خدا کی راہ میں دو اس کے بدلے تمہیں جنت دی جائے گی۔یہ ترغیب کی حد تک بات درست ہے مگر حقیقت کے لحاظ سے درست نہیں کہ اگر دوسرے چندہ ادا نہ کریں تو مخلصین کو بھی زیادہ بار نہ اُٹھانا چاہئے۔اگر کوئی ایک ہی احمدی رہتا ہے تو اُس کا بھی فرض ہے کہ سارا بوجھ اُٹھائے۔پیرا کبر علی صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ بقائے اُڑا دیئے جائیں۔چوہدری فقیر محمد صاحب نے اس کی مخالفت کی ہے مگر بات اہم ہے۔بقایا بالکل تو چھوڑا نہیں جاسکتا۔یہ ہوسکتا ہے کہ ئین ئین صورت اختیار کریں اور وہ اس طرح کہ کم سے کم اصول یہ ہو کہ بقایا کی لسٹ الگ ہو۔ماہوار چندہ با قاعدہ وقت پر وصول کیا جائے اور اگر کوئی اس سے زائد دے تو اُسے بقایا میں شمار کیا جائے۔گویا آئندہ ماہوار چندہ کی وصولی مقدم ہو اور بقایا بعد میں۔