خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 65
خطابات شوری جلد دوم ۶۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء تجویز پر مالی کمیٹی جو تجویز کی جائے گی غور کرے ۔ اس کمیٹی کے اس سال کے لئے میں یہ ممبر تجویز کرتا ہوں ۔ (۱)۔ پیرا کبر علی صاحب ایم ایل سی (۲) ۔ میر محمد اسماعیل صاحب (۳)۔ خان بہادر چوہدری نعمت خاں صاحب سیشن جج دہلی (۴) ۔ راجہ علی محمد صاحب افسر مال لاہور (۵) ۔ ملک غلام محمد صاحب رئیس لاہور (۶) ۔ چوہدری عطا محمد صاحب نائب تحصیلدار ( ۷ ) ۔ جملہ ناظر صاحبان صدرانجمن احمد یہ (۸) - محاسب صاحب صدرانجمن احمد یہ (۹)۔ آڈیٹر صاحب صدرانجمن احمد یہ بجٹ کے متعلق فیصلہ اس کمیٹی کے ساتھ مل کر غور کرنے کے بعد کروں گا۔ یہ کمیٹی دوسری تجاویز پر بھی غور کرے گی لیکن قبل اس کے کہ یہ کمیٹی اپنا اجلاس منعقد کرے جن جماعتوں کے ذمہ گزشتہ بقائے ہیں ان کی لسٹیں تفصیل کے ساتھ تیار ہو جائیں ، خواہ بیت المال کو اس کے لئے زائد آدمی لگانے پڑیں ۔ اس کمیٹی کے اجتماع کے لئے ۳۰-۳۱ مئی کی تاریخیں مقرر کرتا ہوں ۔ درمیانی عرصہ کے لئے بجٹ کی عارضی منظوری دے دوں گا۔ (۳) ۔ ملک مولا بخش صاحب نے بیکاری کو دور کرنے اور آمد بڑھانے پر زور دیا ہے۔ یہ ضروری بات ہے اور حقیقی علاج یہی ہے مگر یہ ایسی صورت ہے کہ تا تریاق از عراق آورده شود مارگزیده مرده شود والی بات ہوگی ، اس وقت فوری علاج کی ضرورت ہے ۔ (۴) ۔ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی تجویز ہے کہ ہر جماعت کو یونٹ قرار دیا جائے اور کی کو ! پھر کا جو بقایا ہو پھر اُس کا جو بقایا ہو اس کی ادائیگی کی ذمہ داری صرف سیکرٹری اور پریذیڈنٹ پر نہ ہو بلکہ ساری جماعت پر ہو اور اس کے نادہندہ اگر چندہ ادا نہیں کرتے تو مخلص زیادہ ادا کر کے اُن کی کمی کو بھی پورا کریں۔ اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ اس سے جماعتوں میں سستی پیدا ہوگی ۔ وہ بجٹ تجویز