خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 62

خطابات شوری جلد دوم ۶۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء ٹکٹوں کا خرچ نہیں۔اس وقت میں کیا کہوں کہ ہزار یا پانچ سو کی رقم روک کر ریز روفنڈ میں ڈالتے جاؤ۔اِن مشکلات کو دُور کرنا جماعت کا کام ہے۔نہ صرف ان کو دور کرنا بلکہ آئندہ مالی حالت کو مضبوط کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔جو جائدادیں خریدی گئی ہیں وہ فی الحال آمدنی کا موجب نہیں بلکہ ان کے لئے بھی خرچ کی ضرورت ہے کیونکہ وہ لاکھوں روپے کی ہیں اور ان پر رقم ابھی کم خرچ کی جاسکی ہے۔اس وقت پانچ لاکھ کے قریب کی جائداد ہے لیکن اس پر رقم تیس ہزار کے قریب لگائی گئی ہے۔پس سر دست وہ جائداد بوجھ ہے لیکن بعد میں سہارا بن سکتی ہے۔پس جب مشکلات پیش آجائیں تو دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ایک یہ کہ ان مشکلات کو کس طرح دور کیا جائے اور دوسرے یہ کہ آئندہ اس قسم کی مشکلات سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔ہمارے ہاں اسلامی طریق یہی ہے کہ کوئی ریز روفنڈ نہیں ہوتا۔مگر یہ خیال مدنظر ہے کہ قرضوں میں ایک اور غیر اسلامی طریق برتا جا رہا ہے اس کی اصلاح ہو جائے۔اسلام تو کل سکھاتا ہے مگر اسلام نو کر بھی نہیں بناتا۔پہلے اسلام میں کوئی تنخواہ دار کارکن نہیں رکھے گئے مگر اب زمانہ کے حالات بدلنے کی وجہ سے رکھنے پڑتے ہیں۔شریعت نے آگ کا عذاب منع کیا ہے مگر فقہاء نے اس پر اتفاق کیا ہے اور میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی سُنا ہے کہ چونکہ دشمن آگ کا عذاب دیتا ہے اس لئے اُس کا مقابلہ اس سے کرنا جائز ہے۔اگر ساری دنیا پر اسلامی حکومت ہو تو بندوق اور توپ کا استعمال ناجائز کر دیا جائے۔لیکن جب دشمن انہیں استعمال کرتا ہے تو مسلمانوں کو بھی استعمال کرنی پڑتی ہیں۔پس جو طریق ریز روفنڈ کا ہم نے اختیار کیا مجبوراً کیا۔چونکہ خرچ کے متعلق پرانے دستور کے خلاف طریق اختیار کیا گیا اس لئے آمد بڑھانے کے لئے بھی ایسا طریق اختیار کرنا ضروری ہے۔گویا جس قسم کا خرچ ہے اس کے لئے روپیہ مہیا کرنے کے طریق بھی موجودہ زمانہ کے لحاظ سے اختیار کرنے ضروری ہیں۔پس جماعت کو آج کا کام شروع کرنے سے پہلے اس طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس پر بہت بڑی ذمہ واری عائد ہوتی ہے۔اول تو یہ کہ گزشتہ نقصان کو پورا کرے۔(۲)۔آئندہ مستقل فنڈ قائم کرے تا کہ ہنگامی اخراجات کا بار مستقل چندوں پر نہ پڑے۔