خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 733
خطابات شوری جلد دوم رکھیں کہ و ۷۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء ہ وہ اپنے اِن افعال سے اسلام اور احمدیت احمدیت کی کامیابی کے راستہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ یہ چیزیں مٹنے والی ہیں ، مٹ رہی ہیں اور مٹ جائیں گی ۔ ابھی تم میں سے کئی لوگ زندہ ہوں گے کہ تم مغربیت کے درو دیوار اور اس کی چھتوں کو گرتا ہوا دیکھو گے اور مغربیت کے ان کھنڈرات پر اسلام کے محلات کی نئی تعمیر مشاہدہ کرو گے۔ یہ کسی انسان کی باتیں نہیں بلکہ زمین و آسمان کے خدا کا فیصلہ ہے اور کوئی نہیں جو اس فیصلہ کو بدل سکے ۔ پس ہماری طاقت کا کا سوال سوا نہیں ا۔ ۔ نہ ہم نے پہلے کبھی کہا کہ یہ تغیر ہماری طاقت سے ہوگا ہوگا اور نہ آئندہ کبھی کہہ سکتے ہیں ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس تغیر کا خدا نے وعدہ کیا ہے اور خدا تعالیٰ کے وعدوں کے اٹل ہونے کا ہم اپنی زندگی میں بارہا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ اس مشاہدہ کے بعد ہمارے ایمانوں میں تزلزل پیدا ہو، ہمارے اعتقادات میں کمزوری رونما ہو ۔ یقیناً دنیا گھٹنوں کے بل گر کر عاجزی کرتی اور دانت پیستی ہوئی ہمارے سامنے آئے گی اور اسے اپنے اس موجودہ نظام کو توڑ کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایک نیا نظام اسلام کی تعلیم کی شکل میں اپنے لئے قبول کرنا پڑے گا۔ پس تم مت ڈرو کہ اگر ہم نے پردہ یا مخلوط تعلیم کے خلاف آواز بلند کی تو لڑکیاں بغاوت کر دیں گی یا لڑکیوں کے ماں باپ بغاوت کر دیں گے ۔ ان لڑکیوں اور ان کے ماں باپ کا تو کیا ذکر ہے، وہ ہے، وہ لوگ جو ان خیالات کے بانی ہیں وہ خود گھٹنوں کے بل گر کر ہم سے معافی مانگنے والے ہیں ۔ پس یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ہماری عورتیں بے پرد ہوں اور ہمیں ان کے مقابلہ میں ندامت اور شرمندگی حاصل ہو بلکہ وہ خود ہزار ندامت اور پشیمانی سے اپنی گردنیں جھکائے ہوئے ہمارے سامنے حاضر ہوں گے اور اُنہیں اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ غلط راستہ پر چل رہے تھے۔ تھے ۔ صحیح راستہ وہی ہے جو اسلام نے پیش کیا ۔ یہ خدا کا فیصلہ ہے اور اس فیصلہ کے نفاذ کو دنیا کی کوئی طاقت، دنیا کی کوئی حکومت اور دنیا کی کوئی بادشاہت روک نہیں سکتی۔ پس تم مت گھبراؤ کہ زمانہ کے حالات اسلامی تعلیم کے مخالف ہیں۔ دلوں کا بدلنا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہو کہ وہ دنیا کا اس رنگ میں نقشہ پلٹ دے کہ سب لوگوں نے اپنے ہاتھ میں دو دو گز لمبی تسبیحیں رکھی ہوئی ہوں اور سر پر لمبے لمبے بال ہوں۔ نیلے تہ بند باندھے ہوئے ہوں اور گھی کی مالشیں کرواتے ہوں تو یقیناً خدا تعالیٰ ایسا ہی کر کے دکھا دے