خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 730
خطابات شوری جلد دوم ۷۳۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء کو گرا رہا ہے مگر بجائے اس کے کہ وہ یکدم سب عمارتوں کو گرائے اُن کو آہستہ آہستہ گرا رہا ہے کیونکہ وہ لوگ جن کے سپرد اس عمارت کی نئی تعمیر ہے وہ خدا تعالیٰ کے انجینئر نگ کالج میں اس وقت پڑھ رہے ہیں اور ابھی اپنی تعلیم سے فارغ نہیں ہوئے۔پس اگر آج تمام عمارتیں یکدم گر جائیں تو چونکہ وہ لوگ جنہوں نے کئی عمارتیں کھڑی کرنی ہیں ابھی اپنی تعلیم کی تکمیل نہیں کر سکے اس لئے خلا رہ جائے گا۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ ان دیواروں اور مکانات کو گرا رہا ہے۔آج ایک دیوار کو گراتا ہے تو کل دوسری دیوار کو گرا دیتا ہے۔آج ایک چھت اُڑاتا ہے تو کل دوسری چھت کو اڑا دیتا ہے آج ایک کمرہ کو گراتا ہے تو کل دوسرے کمرے کو گرا دیتا ہے۔اسی طرح وہ آہستہ آہستہ اور قدم بقدم دنیا کی تمام عمارتوں، دنیا کے تمام مکانوں اور دنیا کے تمام سامانوں کو گرا رہا، مٹا رہا اور تباہ و برباد کر رہا ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ وہ اُس وقت تک ان عمارتوں کو مکمل طور پر بر باد نہ کرے جب تک خدا تعالیٰ کے کالج میں جو لوگ تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ اس کالج سے تعلیم حاصل کر کے فارغ نہ ہو جائیں اور ان پر قبضہ کرنے کے لئے تیار نہ ہو جائیں۔پس یہ رستہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہماری جماعت کی ترقی کے لئے کھولا گیا ہے۔یہ تغیر ایک دن ہوگا اور ضرور ہو گا مگر آہستگی سے اس لئے ہو رہا ہے تا کہ وہ لوگ جنہوں نے اس پر قبضہ کرنا ہے پوری طرح تیار ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کے کالج میں تعلیم حاصل کر لیں۔میں نے گزشتہ ایام میں ایک خطبہ جمعہ میں بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو دنیا کی خرابیوں کی اصلاح کے لئے کھڑا کیا ہے اور آپ اُس کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں تا کہ آپ جب تعلیم سے فارغ ہو جائیں تو اُن مدرسوں کی جگہ کام کریں جو آج دنیا کو تعلیم دے رہے ہیں، مگر میں نے بتایا تھا کہ ابھی تک ہماری جماعت میں یہ قابلیت پیدا نہیں ہوئی کہ ظاہری علوم میں جو لوگ ماہر ہیں وہ ان کو تعلیم دے سکے۔یہ نہیں کہ اس کے سامان موجود نہیں، سامان موجود ہیں بلکہ ایک مثال بھی تمہارے سامنے موجود ہے۔میں کسی مدرسہ میں نہیں پڑھا مگر میں خدا تعالیٰ کے فضل سے قابلیت رکھتا ہوں کہ دنیا کے بڑے سے بڑے علوم کے ماہرین کو اسلامی تعلیم کے مقابلہ میں ساکت اور خاموش کرا سکوں۔میرے لئے اس قابلیت کے حصول میں جسمانی سامان ممد نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے