خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 727
خطابات شوری جلد دوم ۷۲۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء ہے اور اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ سارا سال لوگوں کو تحریک کرتا رہے اور وہ باتیں انہیں بار بار بتائے جو یہاں پاس ہوئی ہیں۔پس یہ مت سمجھو کہ آپ لوگوں کی نمائندگی صرف تین روز کی نمائندگی ہے۔جس دن کوئی شخص بطور نمائندہ منتخب ہوتا ہے اس دن سے لے کر اگلی مجلس شوریٰ کے نئے انتخاب کے موقع تک وہ جماعت کا نمائندہ رہتا ہے اور جس طرح ایک نمائندہ کا فرض ہے کہ وہ اپنی جماعت کے خیالات ہم تک پہنچائے ، اسی طرح اس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ہماری باتیں جماعت کے لوگوں تک پہنچائے۔گویا پہلے وہ جماعت کی طرف۔نمائندہ بن کر ہمارے پاس آتا ہے اور پھر ہمارا نمائندہ بن کر جماعت کے پاس جاتا ہے اور اس کا فرض ہوتا ہے کہ جب تک نئی مجلس شوری کے لئے نیا انتخاب نہیں ہوتا اُس وقت تک وہ اپنے آپ کو نمائندہ سمجھے اور یہاں کی پاس شدہ تجاویز بار بار جماعت کے سامنے دُہراتا رہے۔پس یہ مت سمجھیں کہ آپ لوگوں کی شوری کی نمائندگی آج ختم ہو گئی ہے، آپ کی نمائندگی ختم نہیں ہوئی بلکہ سال کے آخر تک جاری رہے گی اس لئے جب تک نیا انتخاب نہ ہو آپ کا فرض ہے کہ آپ جماعت میں بیداری پیدا کریں اور اس کی مستی کو دُور کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔نشانات کا ظہور یاد رکھو شستی اور غفلت کسی حالت میں بھی اچھی نہیں ہوتی مگر اس زمانہ میں جب کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نشان پر نشان ظاہر ہو رہے ہیں سستی اور غفلت سے کام لینا خدا تعالیٰ کو اپنے اوپر ناراض کرنا ہے۔آج وہ زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے نشانات بارش کی طرح برس رہے ہیں اور اس کثرت اور تواتر کے ساتھ ظاہر ہو رہے ہیں کہ کوئی بڑا ہی بے حیا ہو گا جو انکار کرے اور کہے کہ میں نے خدا تعالیٰ کے نشانات کا مشاہدہ نہیں کیا۔آپ لوگوں نے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہزاروں نشانات دیکھے اور اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ کس طرح خدا تعالی کی باتیں پوری ہوئیں۔پھر اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے مجھے اس کثرت سے اخبار غیبیہ سے اطلاع دی کہ اس کی مثال میری خلافت کے گزشتہ کئی سالوں میں نہیں ملتی۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس زمانہ میں بعض نہایت ہی اہم تغیرات پیدا کرنے والا ہے اور وہ ان تغیرات کی داغ بیل کے لئے نشان پر نشان ظاہر کر رہا ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی شخص عقل و سمجھ کا ذرا بھی مادہ رکھتے