خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 724 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 724

خطابات شوری جلد دوم ۷۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء ہمارے ہاں اب تک رڈی کو فروخت کرنے کی صرف ایک ہی مثال ہے کہ کسی نے الفضل کے پرانے فائل چُرائے تھے اور انہیں کافی قیمت پر فروخت کر دیا۔وو مجلس مشاورت کی کارروائی جماعت کو سُنا ئیں اس کے بعد میں دوستوں کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ میں پہلے بھی ایک دفعہ بیان کر چکا ہوں احباب کو چاہئے کہ یہاں سے واپس جا کر جماعت کے تمام دوستوں کو مجلس مشاورت کی کارروائی سنائیں۔جن لوگوں نے نوٹ لکھے ہوئے ہوں وہ اُن نوٹوں سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور جنہوں نے کارروائی کو نوٹ نہیں کیا وہ اپنے ذہن میں جس قدر باتیں محفوظ رکھ سکے ہوں وہ دوستوں کو سُنا دیں اور آئندہ کے لئے یہ نوٹ کر لیں کہ چونکہ انہوں نے ہمیشہ یہاں کی کارروائی جماعتوں کو سُنانی ہوتی ہے اس لئے وہ اپنی نوٹ بکوں میں ضروری باتیں لکھتے رہا کریں تا کہ اُنہیں سُنانے میں آسانی ہو، یہ ایک نہایت ہی ضروری امر ہے جس کی طرف جماعت کے تمام دوستوں کو توجہ کرنی چاہئے۔یاد رکھو لوہا جتنا زیادہ گرم ہو اتنا ہی اچھا گوٹا جاسکتا ہے اور جتنا ٹھنڈا ہو اسی قدر اس کے کوٹنے میں دشواری ہوتی ہے۔جب یہاں سے دوست واپس جاتے ہیں تو چونکہ کارروائی تازہ بتازہ ہوتی ہے اس لئے اُن کے دلوں میں جوش ہوتا ہے اور جو لوگ یہاں نہیں آتے اُن کے دلوں میں بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ قادیان سے ہمارے نمائندے واپس آئیں تو ہم اُن سے سنیں کہ وہاں کیا کا روائی ہوئی ہے مگر جب کچھ عرصہ گزر جاتا ہے تو جوش سرد پڑ جاتا ہے۔نہ نمائندوں کے دلوں میں سنانے کی خواہش رہتی ہے اور نہ جماعت کے دل میں سننے کی خواہش رہتی ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے میاں بیوی اکٹھے جا رہے ہوں تو کوئی توجہ بھی نہیں کرتا لیکن ڈولا گزر رہا ہو تو سب لوگ اسے دیکھنے لگ جاتے ہیں۔تو نئی چیز کی طرف لوگوں کی ہمیشہ زیادہ توجہ ہوتی ہے اور پرانی چیز کی طرف کم توجہ ہوتی ہے۔اگر یہاں سے واپس جا کر پندرہ بیس دن تک کارروائی نہ سنائی جائے تو لوگوں کا جوش آہستہ آہستہ سرد ہو جاتا ہے لیکن اگر جاتے ہی اُنہیں کا رروائی سنائی جائے اور بتایا جائے کہ یہاں رکن کن باتوں پر بحث ہوئی ہے اور کون کون سے امور کے متعلق جماعت نے متفقہ طور پر اپنے اوپر ذمہ داری لی ہے تو اُن میں بھی عمل کرنے کی تحریک پیدا ہو اور وہ مرکزی کاموں