خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 725
خطابات شوری جلد دوم ۷۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء میں پہلے سے زیادہ دلچسپی لینے لگ جائیں۔پس دوستوں کو چاہئے کہ یہاں سے اپنی اپنی جماعتوں میں واپس جاتے ہی جلسہ کریں اور دوستوں کو تمام کارروائی سنائیں۔اگر آپ لوگ جاتے ہی اپنی جماعت کے دوستوں سے کہیں کہ جلدی جلسہ کرو ہم نہایت ضروری باتیں سنانا چاہتے ہیں تو آپ لوگ یہ سمجھ لیں کہ آدھی فتح آپ کی اُسی وقت ہو جائے گی، اور لوگ یہ سمجھنے لگ جائیں گے کہ کوئی بڑا اہم معاملہ ہے جس کے لئے اتنی جلدی جلسہ کا انتظام کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے اور اُن کی فطرت باتوں کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے گی۔میں نے خود اس کا نظارہ دیکھا ہوا ہے کہ کس طرح لوگوں کی فطرت پر ان باتوں کا گہرا اثر ہوتا ہے بلکہ بعض لوگ تو اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے دھوکا بھی کھا جاتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول جب وفات پاگئے تو مولوی محمد علی صاحب نے ایک ٹریکٹ لکھا جو باہر سے آنے والے تمام دوستوں میں تقسیم کیا گیا۔اس ٹریکٹ کا مضمون یہ تھا کہ آئندہ خلافت کا سلسلہ جاری نہیں ہونا چاہئے اور یہ کہ حضرت خلیفتہ المسیح اول کی بیعت بھی انہوں نے بطور خلیفہ کے نہیں کی تھی بلکہ ایک پیر اور صوفی سمجھ کر کی تھی۔یہ ٹریکٹ مجھے رات کو اُس وقت ملا جب کہ میں تہجد پڑھنے کے لئے اُٹھا اور مجھے بتایا گیا کہ یہ ٹریکٹ تمام راستہ میں تقسیم کیا گیا ہے ایسے وقت میں ایک مومن سوائے اس کے کیا کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور گر جائے۔چنانچہ میں نے خود بھی دعائیں کرنا شروع کر دیں کہ اللہ تعالیٰ اس فتنہ سے جماعت کو محفوظ رکھے اور دوسرے لوگوں کو بھی جگایا کہ اُٹھو اور دعائیں کرو۔جب بعد میں ہمارا اور غیر مبائعین کا اختلاف بڑھ گیا اور یہ خبر غیر مبائعین تک بھی پہنچ گئی کہ میں نے ایک رات اس اس طرح لوگوں کو جگایا تھا تو ایک دن ”پیغام صلح نے بڑے جلی عنوانات سے لکھا جماعت احمدیہ قادیان کی سازش کا پتہ چل گیا۔ایک عظیم الشان انکشاف۔نیچے لکھا تھا میاں غلام محمد صاحب تاجر اکھنور نے بیان کیا ہے کہ اُس رات مرزا محمود اُٹھ اُٹھ کر لوگوں کو جگاتے رہے اور کہتے رہے کہ اُٹھ کر نمازیں پڑھو اور دعا کرو۔غرض جو بات ہیڈنگ کے نیچے لکھی گئی بالکل درست تھی مگر ہیڈ نگ میں یہ ظاہر کیا گیا کہ کوئی اہم فریب پکڑا گیا ہے۔بعض مخلص دوستوں کے خطوط بڑی گھبراہٹ کے میرے نام آئے کہ ”پیغام صلح میں جو خبر