خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 723 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 723

۷۲۳ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء میں اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں اس لئے آئندہ کے لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ دوسرے دن کا اجلاس بجائے بارہ بجے کے گیارہ بجے شروع ہو جایا کرے۔میں نے دیکھا ہے ابتداء میں دوسرے دن کی کارروائی دس بجے ہی شروع ہو جایا کرتی تھی مگر جب کا رکنوں کو اس بارہ میں ڈھیلا چھوڑ دیا گیا تو رفتہ رفتہ بارہ بجے کا وقت اختیار کر لیا گیا۔اسی طرح سب کمیٹیاں جو مقرر ہوا کرتی تھیں وہ پہلے راتوں رات اپنا کام ختم کر دیا کرتی تھیں۔چنانچہ پہلے اجلاس کے بعد ہی وہ کام پر بیٹھ جاتیں اور بعض دفعہ رات کے تین تین بجے تک کام کرتی رہتی تھیں۔میں بھی جاگتا رہتا تھا اور میں نے دیکھا ہے کہ میرے پاس بعض دفعہ دو دو بجے رات کو اور بعض دفعہ تین تین بجے رات کو رپورٹیں آیا کرتی تھیں کہ ہماری سب کمیٹی نے اب کام ختم کیا ہے اور یہ رپورٹ تیار کی ہے مگر جب لوگوں کو ڈھیلا چھوڑ دیا گیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ اب بعض سب کمیٹیوں نے دوسرے دن آٹھ بجے صبح اپنے کام کو شروع کرنے کا اعلان کیا ، یہ شستی اور غفلت کی علامت ہے۔اس طرح جماعتی امور پر غور کرنے کے لئے کافی وقت میسر نہیں آتا۔پس آئندہ دوسرے دن کی کارروائی بارہ بجے کی بجائے گیارہ بجے شروع ہو جانی چاہئے اور سب کمیٹیوں کو بھی اپنے کام کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت خرچ کرنا چاہئے۔ہم نے سارا سال کام کرنا ہوتا ہے اور اُن کاموں پر غور کرنے کے لئے یہی تین دن ہوتے ہیں اس لئے ان ایام میں جس قدر بوجھ طبیعت پر پڑے اُسے برداشت کرنا چاہئے۔رڈی کا غذات کی فروخت بعض دوستوں نے کہا ہے کہ صدر انجمن احمد یہ کو اپنے رڈی کا غذات فروخت کرنے چاہئیں آجکل کے ایام میں اس طرح بھی کافی آمد ہو سکتی ہے۔میرے نزدیک یہ تجویز بھی اس قابل ہے کہ اس پر تحقیقاتی کمیٹی غور کرے۔ایک مصنف تھا جس نے تین سال ہوئے ایک کتاب لکھی مگر وہ فروخت نہ ہوئی اور اُسی کے پاس پڑی رہی۔اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ اُس مصنف نے کسی دوسرے کے پاس بیان کیا کہ میں نے اپنی کتاب رڈی کے بھاؤ فروخت کر دی تو جو قیمت میں نے کتاب کی طباعت پر خرچ کی تھی اُس سے زیادہ روپیہ مجھے وصول ہو گیا۔جب آجکل رڈی کے بھاؤ کا یہ حال ہے تو ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اس پر غور کریں۔