خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 710 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 710

خطابات شوری جلد دوم 21۔مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء پر جو عام بحث ہوئی ہے وہ بہت سی مفید تدابیر پر مشتمل ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے میں محسوس کرتا ہوں کہ جماعت اس بارہ میں پہلے سے بہت کچھ ترقی کر چکی ہے۔ابتداء میں جرح تو ہوتی تھی مگر وہ بعض دفعہ ایسا رنگ اختیار کر لیتی تھی جیسے غیر احمدیوں کا قاعدہ ہے کہ کسی افسر سے ناچاقی ہوئی یا کسی سے دوستانہ ہوا تو اُس کے متعلق مخصوص سوال اُٹھا دیا۔مگر یہ روح اب بہت کم ہو گئی ہے اور دوستوں کی طرف سے جو جرح ہوتی ہے، دل مانتا ہے کہ وہ ضروری اور مناسب حال ہے۔اگر یہ طریق جاری رہے تو اس کے مطابق ہم اپنے نظام کے نقائص کی اصلاح کر کے اُسے پہلے سے بہتر بنا سکتے ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ بیرونی دنیا میں اس کے متعلق جو دستور ہے وہ ہمارے ہاں نہیں بلکہ اس کے متعلق ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ اس طرح وہ باتیں اظہار خیالات کی حد سے نکل کر تجاویز اور پھر معتین تجاویز کی صورت اختیار کر لیتی ہیں لیکن دوسری طرف باوجود اس کے کہ کئی سال سے نمائندگان جماعت کی طرف سے بجٹ پر جو جرح اور تنقید کی جاتی ہے وہ زیادہ سے زیادہ مفید ثابت ہو رہی ہے، اب تک اس جرح سے صدر انجمن احمد یہ کے محکموں نے کوئی خاص فائدہ نہیں اُٹھایا اس لئے اب جبکہ ہمارے دوستوں کی طرف سے جرح و تنقید کا سلسلہ نہایت مفید ثابت ہو رہا ہے، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس جرح سے کس رنگ میں فائدہ حاصل کیا جائے اور میں اس سال اسی سوال کو لیتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ اس جرح سے ہم کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کی طرف سے جو عملہ مجلس مشاورت کی روئداد مرتب کرنے کے لئے مقرر کیا جاتا ہے اور اس بارہ میں اس نے جو انتظام کیا ہوا ہے اُس کو مدنظر رکھتے ہوئے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کا فرض ہے کہ وہ آئندہ بجٹ پر عام بحث اور اس پر جرح و تنقید کے حصہ کو جلد سے جلد صاف کروالیا کریں۔میرے نزدیک چونکہ یہ حصہ زیادہ لمبا نہیں ہوتا اس لئے دو تین ہفتہ میں آسانی کے ساتھ لکھا جا سکتا ہے۔پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو چاہئیے کہ وہ دو تین ہفتہ کے اندر اندر اِس حصہ کو نقل کروا کر مجلس شوری کی تحقیقاتی کمیٹی کو پہنچا دیں اور تحقیقاتی کمیٹی کا فرض ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر اندر ان تجاویز پر غور کر کے اپنی رائے صدر انجمن احمدیہ کے پاس بھیج دے کہ اُس کے نزدیک کون کونسی جرح