خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 708 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 708

خطابات شوری جلد دوم ۷۰۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء دخل اس امر کا بھی ہے کہ ناظر اپنے اپنے صیغہ کا بجٹ وقت پر تیار نہیں کرتے۔میں نے خود بجٹ بنائے ہیں اور میرا عملی تجربہ اس بارہ میں یہ ہے کہ ہر ناظر اگر چاہے تو دو تین گھنٹے کے اندر اندر اپنے اپنے صیغہ کا بجٹ بنا سکتا ہے۔ہمیشہ پہلا بجٹ بنانا مشکل ہوتا ہے۔بعد کے بجٹ بنانے میں تو کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ناظر پچھلے سال کا بجٹ اپنے سامنے رکھ لے اور اس کے مطابق اگلے سال کا بجٹ تیار کر دے تو اس میں نہ وقت صرف ہوتا ہے اور نہ کوئی اور مشکل پیش آتی ہے۔مگر میں نے دیکھا ہے عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے اس بارہ میں فلاں کو چٹھی لکھی اور اُس کا جواب نہ آیا۔مثلاً مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر صاحب کو چٹھی لکھی گئی تھی جس کا انہوں نے بہت دیر کے بعد جواب دیا حالانکہ ایسے امور میں چٹھیاں بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔ناظروں کا فرض ہے کہ وہ متعلقہ افسروں کو بلائیں اور کہیں کہ لو تم ہمارے سامنے بیٹھو، ہم ابھی اگلے سال کا بجٹ تیار کرتے ہیں۔اگر آپ اس بارہ میں کچھ کہنا چاہتے ہوں تو ابھی بتا دیں۔اگر اس رنگ میں کام کیا جائے تو بہت کچھ سہولت ہو سکتی ہے بلکہ نومبر کی بجائے اگر اکتوبر میں ہی یہ کام شروع کر دیا جائے تو اور بھی آسانی ہو جائے۔بہر حال میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ آئندہ سال بجٹ بنانے کا حق صدر انجمن احمدیہ کو نہیں ہو گا اور نہ صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے پیش ہو گا بلکہ آئندہ سال کا بجٹ محاسبہ کمیٹی کی طرف سے پیش ہو گا۔اگر ناظر صاحب بیت المال اس کے ممبر ہیں تب تو وہ اس میں شامل ہوں گے ہی لیکن اگر اس کے ممبر نہ ہوں تو آئندہ سال ناظر صاحب بیت المال اُس میں شریک ہوں گے اور وہ محاسبہ کمیٹی کے صدر ہوں گے۔سب ناظروں کا فرض ہو گا کہ وہ وقت مقررہ کے اندر اندر اپنے اپنے صیغہ کا بجٹ محاسبہ کمیٹی کے پاس بھیج دیں اور اس بارہ میں بار بار یاد دہانیاں نہ کرائی جائیں۔اگر ناظران صیغہ جات وقت کے اندر اپنے اپنے صیغہ کا بجٹ نہ بھیجیں تو محاسبہ کمیٹی کو ٹلی آزادی ہوگی کہ وہ خود ان صیغہ جات کا بجٹ تجویز کر دے۔بجٹ کے لئے قواعد وضوابط میں جو تاریخیں مقرر ہیں اُن کی پوری پابندی ہونی چاہئے تا کہ وقت پر غور ہو سکے اور وقت پر جماعتوں کے سامنے پیش ہو سکے۔اب چونکہ موجودہ صورت میں اس سال کے بجٹ کو مجلس میں پیش نہیں کیا جا سکتا اس لئے میں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں کہ یہ بجٹ یہاں پیش نہ ہو بلکہ بعد میں سب کمیٹی کے سامنے پیش ہو۔