خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 702 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 702

خطابات شوری جلد دوم ۷۰۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء اُن کے چندہ کا ایک نقشہ بنا کر اُن کے سامنے ہمیشہ پیش کیا جایا کرے تو دس فیصدی شرح کے حساب سے ہی کافی چندہ جمع ہوسکتا ہے۔نمائندگان شورای کا ایک اہم فرض محمد حسن صاحب احسان کی یہ تجویز بھی بہت ضروری ہے اور غالباً پہلی مجلس شوریٰ میں اس طرف توجہ بھی دلائی جا چکی ہے کہ ہر نمائندہ یہاں سے جا کر ایک میٹنگ کرے اور اس میں وہ تمام باتیں سُنائے جو یہاں بیان ہوئی ہیں۔میں نے بھی کئی دفعہ کہا ہے کہ آپ لوگ یہاں اپنی مرضی سے نہیں آتے بلکہ بعض اور لوگ آپ کو یہاں اپنے نمائندہ کی حیثیت سے بھجواتے ہیں۔پس آپ کا فرض ہے کہ جب آپ یہاں سے واپس جائیں تو اُن کو بتائیں کہ یہاں کیا کیا باتیں ہوئیں اور کون کون سے فیصلے ہوئے۔اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو سودا لینے کے لئے بھیجے اور وہ سودا خرید کر اپنے گھر میں رکھ لے تو وہ دیانتدار نہیں سمجھا جاسکتا مگر میں نے لوگوں میں یہ عام طور پر نقص دیکھا ہے کہ وہ ایسے مواقع پر جو کام اُن کے سپرد ہو وہ تو کر لیتے ہیں۔مگر جس نے انہیں بھیجا ہو اُسے بتاتے نہیں کہ کام ہو گیا ہے یا نہیں۔اپنے کارکنوں میں ہی میں نے بارہا دیکھا ہے کہ جب میں اُن میں سے کسی کو کام کے لئے بھیجوں تو وہ کام کرنے کے بعد گھر میں بیٹھ جاتا ہے اور مجھے یہ اطلاع دینا ضروری نہیں سمجھتا کہ کام ہو گیا ہے یا نہیں۔آخر مجھے خود اس کی طرف آدمی بھیجوانا پڑتا ہے کہ تم مجھے بھی تو بتاؤ کہ آخر کیا کر کے آئے ہو۔تو یہ چیز ایسی ہے کہ اس کے بغیر وہ مفید نتائج کبھی حاصل نہیں ہو سکتے جو اس مجلس شوری سے حاصل ہونے چاہئیں۔اگر ہماری جماعت کی طرف سے پانچ سو یا ہزار نمائندے یہاں آجائیں اور واپس جا کر جماعتوں میں ایک نئی زندگی پیدا کرنے کی کوشش نہ کریں تو محض مجلس شوری کسی بیداری کے پیدا کرنے کا موجب نہیں ہو سکتی۔بیداری اسی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے جب وہ یہاں سے جاتے ہی تمام کارروائی لوگوں کو سُنائیں اور پھر بار بار سناتے رہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مجلس شوری کی رپورٹ چھپ جاتی ہے مگر اول تو رپورٹ بہت دیر کے بعد شائع ہوتی ہے دوسرے رپورٹ پڑھنے کا وہ اثر نہیں ہوتا جو اپنے نمائندوں کے منہ سے سن کر اثر ہوتا ہے۔جب وہ کہتا ہے میں آپ لوگوں کی طرف سے مجلس شوری میں شامل ہوا تھا اور میں نے یہ عہد کیا تھا کہ ہمارے