خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 698
۶۹۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء خطابات شوری جلد دوم جھوٹ ، شریعت نے تحقیق سے قبل ہمیں کسی کو مجرم قرار دینے کا اختیار نہیں دیا۔بہر حال ایک اور عورت کا جو ہمارے ہاں مہمان تھی ایک کپڑا چپڑایا گیا اور اس لڑکی کے متعلق یہ شبہ کیا گیا کہ کپڑا اس نے چرایا ہے۔لڑکی سے پوچھا گیا تو اُس نے انکار کیا اور کہا میں نے کپڑا نہیں چرایا۔وہ عورت چونکہ ہماری مہمان تھی اِس لئے میری بیوی نے اُسے ایک اپنا کپڑا نکال کر دے دیا یا پیسے دے دیئے کہ وہ ویسا ہی کپڑا خرید لے۔خیر وہ عورت بھی چلی گئی اور لڑکی بھی۔کچھ عرصہ کے بعد وہی لڑکی پھر ہمارے گھر میں آگئی اور اتفاقاً وہ عورت بھی آگئی جس کا کپڑا چڑھایا گیا تھا اور اس نے دیکھ لیا کہ اس کا کپڑا جو چُرایا گیا تھا اس لڑکی کے پاس ہے۔وہ اس سے جھگڑ پڑی اور کہنے لگی کہ یہ میرا کپڑا ہے۔اب نہ معلوم لڑکی نے کپڑا واقعہ میں چرایا تھا یا اس کپڑے سے ملتا جلتا اس کا کپڑا تھا۔اگر چرایا تھا تب بھی چور کے لئے اقرار کرنا مشکل ہوتا ہے اور اگر پڑایا نہ تھا تب تو بات ہی اور تھی۔بہر حال اس نے انکار کیا اور کہا یہ میرا کپڑا ہے۔آخر جھگڑا بڑھ گیا اور دونوں آپس میں لڑنے لگ گئیں۔اسی دوران میں لڑکی کو غصہ آگیا اور اُس نے دیا سلائی سے اُس کپڑے کو آگ لگا کر جلا دیا۔دوسری عورت نے یہ دیکھ کر بڑا شور مچایا کہ اُس نے میرا کپڑا جلا دیا ہے۔جب مجھے اس کی اطلاع ہوئی تو میں نے کہا یہ اس عورت کی غلطی تھی۔یہ تو اس کا مال تھا ہی نہیں۔جب ہم نے اس کے کپڑے کے پیسے دے دیئے تھے تو گویا اُسے اپنی قیمت مل گئی۔اب وہ کپڑا اس کا نہیں تھا کہ وہ اس کے لئے شور مچاتی اور اس لڑکی سے لڑتی مگر وہ یہی کہتی چلی گئی کہ وہ تو تھا آپ کا احسان مگر چیز تو میری ہی تھی۔یہی نقطہ نگاہ بعض احمدیوں کا ہے کہ وہ ایک چیز دیتے ہیں، اُس چیز کی اُنہیں قیمت دی جاتی ہے مگر پھر بھی وہ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ چیز اُن کی ہے۔ہم نے تو کبھی کسی چیز کو اپنا قرار ہی نہیں دیا۔جب ہم نے اپنا روپیہ خزانہ میں دیا تو پھر وہ ہمارا روپیہ کہاں رہا۔ہم تو اپنا روپیہ خدا کو دیتے ہیں اور خدا قیمت رکھا نہیں کرتا بلکہ اُسی وقت دے دیا کرتا ہے۔اگر نعوذ باللہ ہمارا خدا نا دہند ہوتا تو ہم سمجھتے یہ جھگڑے والی بات ہے۔یا خدا پہلے ہم سے روپیہ لے لیتا اور قیمت بعد میں کسی اور وقت دیتا پھر بھی کوئی جھگڑنے کی بات ہو سکتی تھی۔مگر ہمارا خدا تو وہ ہے جو ارادہ پر ہی ثواب دے دیتا ہے۔گویا قیمت پہلے دیتا اور چیز بعد میں لیتا ہے۔پس ان باتوں کا خیال نہیں کرنا چاہئے۔یہ چیزیں ایمان کو