خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 695
۶۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء خطابات شوری جلد دوم کرتا کہ وہ اس قدر روپیہ جمع کر سکیں، تو خود ہی اپنے فضل سے ان کے دلوں میں تحریک پیدا کر کہ وہ تیرے دین کی اس ضرورت کو پورا کریں۔نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت نے بجائے ستائیس ہزار کے ایک لاکھ دس ہزار کے وعدے پیش کر دیئے۔میں ۲۷ ہزار کو ناممکن سمجھتا تھا میرے خدا نے مجھے ایک لاکھ ستائیس ہزار کے صرف وعدے دلا دیئے اور پھر وصولی بھی ہو گئی ، پس ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ خدا آپ ہمارے سلسلہ کی مدد کرتا ہے۔بعض دفعہ تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ بالکل آسان ہے لیکن شور مچاتے رہو کچھ بھی نہیں بنتا اور بعض دفعہ انسان کہتا ہے کہ فلاں بات بالکل ناممکن ہے مگر خدا اُس وقت لوگوں کے دلوں میں ایسی تحریک قربانی کی پیدا کر دیتا ہے کہ اندازہ اور قیاس سے بڑھ کر چندہ اکٹھا ہو جاتا ہے۔پس حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کام خدا کر رہا ہے اس لئے ہمیں ہر وقت خدا تعالیٰ سے صلح رکھنی چاہئے۔اگر خدا سے ہماری صلح رہے تو ہمارے اموال میں کسی قسم کی کمی آ ہی نہیں سکتی۔نہ مانگنا بے نتیجہ رہتا ہے اور نہ لوگوں کے لئے قربانیاں کسی تکلیف کا موجب ہوسکتی ہیں کیونکہ مومن جانتا ہے کہ میری جان اور میر امال میرا نہیں بلکہ خدا کا ہے اس لئے اگر وہ اپنا تمام مال بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دے تو وہ یہی سمجھتا ہے کہ ابھی اس نے نصف معاہدے کو پورا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ہم نے مومنوں سے ان کے مال اور اُن کی جانیں لے لیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جنت دے دی۔گویا یہ ایک معاہدہ ہے جو مومن اور خدا کے درمیان ہوتا ہے۔اس کے بعد اگر مومن اپنا تمام مال قربان کر دے تو اس صورت میں بھی وہ صرف اتنا سمجھتا ہے کہ اس نے نصف معاہدہ پورا کیا ہے۔نصف معاہدہ ابھی اس نے پورا نہیں کیا اور میں نے بتایا ہے کہ معمولی اندازہ بھی اگر ہم اپنی جماعت کی زمینوں اور جائیدادوں اور اموال وغیرہ کا لگا ئیں تو پندرہ بیس کروڑ روپیہ کی مالیت کی جائیدادیں بن جاتی ہیں اور یہ پندرہ بیس کروڑ روپیہ ایک معمولی غریب جماعت خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کر سکتی ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ معاہدہ کرتے وقت یہ نہیں کہا کہ ہم تم سے کچھ حصہ مال کا لیں گے بلکہ فرمایا ہے کہ ہم تم سے تمہارے سب اموال مانگتے ہیں۔پس اگر ہم کسی وقت اپنا ہر پیسہ خدا کی راہ میں دے دیں اور کپڑے تک فروخت کر کے ننگے ہو جائیں تو اس صورت میں بھی ہم صرف اُس نصف معاہدہ کو پورا کرنے والے