خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 690 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 690

خطابات شوری جلد دوم ۶۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء کرنے لگا ہوں حالانکہ بات وہی ہوتی ہے، وقت اُتنا ہی خرچ ہوتا ہے مگر ہمیں فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے اندر یہ تحریک پیدا ہوتی ہے کہ ایک نیکی کا کام تو ختم ہوا آؤ اب دوسرا نیکی کا کام کریں۔دوسراختم ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں آؤ اب ہم تیسرا نیکی کا کام شروع کر دیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جو جو تحریکات مختلف اوقات میں فرمائی ہیں اگر ہم ان تمام شقوں کو قائم رکھ سکیں اور یقینا ہمیں قائم رکھنی چاہئیں تو اس کا ایک مزید فائدہ یہ ہوگا کہ یہ مختلف تحریکات ہمارے قلب پر بار بار نیکی کا احساس پیدا کرتی رہیں گی۔پس جہاں تک میری ذاتی رائے کا سوال ہے اور جہاں تک نیکی اور تقویٰ پیدا کرنے کا سوال ہے، ان لوگوں کے لئے جو نیکی اور تقویٰ کے حصول کے خواہش مند ہوں یہ مختلف مدات قائم رکھنی ضروری ہیں لیکن پھر بھی اگر محکمہ کو اس بارہ میں مشکلات ہوں یا سلسلہ کی ترقی کی کوئی بہتر صورت پیدا کی جاسکتی ہو تو اُس پر غور کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں مجنون دنیا میں حقیقی کام عاشق مجتہد کے ذریعہ ہی ہوتا ہے نہیں بنایا بلکہ تقلص عقل مند بنایا ہے اور مخلص عقل مند کا یہ کام ہوتا ہے کہ جب وہ دیکھتا ہے کہ کسی خاص طریق پر کام کرنے کے نتیجہ میں نقص پیدا ہو رہا ہے تو وہ اُسے ترک کر دیتا ہے اور درحقیقت دنیا میں ایسے ہی لوگ کامیاب ہوا کرتے ہیں۔نہ خالص مجتہد دنیا میں کام کر سکتا ہے اور نہ خالص متبع کام کر سکتا ہے۔دنیا میں حقیقی کام عاشق مجتہد کے ذریعہ ہوا کرتا ہے۔عشق اُسے اجتہاد سے روکتا رہتا ہے اور عقل اس کے عشق کو بے قابو نہیں ہونے دیتی اور یہی مومن کا کام ہے کہ وہ عاشق بھی بنے اور مجتہد بھی بنے۔نہ عشق کو بے قابو ہونے دے اور نہ عقل کو شریعت پر حاکم بننے دے۔یہی طریقہ ہے جس پر چل کر پہلی جماعتیں کامیاب ہوئیں اور یہی طریق ہے جس پر چل کر ہم فلاح حاصل کر سکتے ہیں۔بعض دوستوں نے بیان کیا ہے کہ چندہ جلسہ سالانہ کی شرح میں اگر کمی کر دی جائے تو چندہ کی وصولی میں زیادتی ہو سکتی ہے مگر بعض اور دوستوں نے یہ بیان کیا ہے کہ اس طرح چندہ میں زیادتی ہونے کی بجائے اور بھی کمی ہو جائے گی۔میری اپنی رائے بھی یہی ہے۔میں نے ایک سال چندہ جلسہ سالانہ کی شرح کو کم کر دیا تھا مگر ناظر صاحب بیت المال کہتے