خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 689
خطابات شوری جلد دوم ۶۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء جو چندہ عام، چندہ وصیت اور چندہ جلسہ سالانہ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔گویا ہر نئی تحریک مومنوں کے دلوں میں ایک نیا ایمان پیدا کر دیتی ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ہم دیوانگی کے طور پر اپنے چندوں کو بڑھاتے چلے جائیں۔میرا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ سکیمیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کی روحانی ترقی کے لئے جاری فرمائی تھیں ہمارا فرض ہے کہ ہم اُن کو جاری رکھیں تاکہ نیکی کے موجبات اور اس کے محرکات ہر وقت ہمارے سامنے رہیں اور وہ نئی سے نئی شکل میں ہمارے سامنے آتے رہیں۔کسی وقت وہ چندہ جلسہ سالانہ کی صورت میں ہمارے سامنے ہوں، کسی وقت چندہ عام کی صورت میں ہمارے سامنے ہوں، کسی وقت وصیت کی صورت میں ہمارے سامنے ہوں اور کسی وقت عید فنڈ کی صورت میں ہمارے سامنے ہوں حالانکہ اگر ہم سب چندوں کو اکٹھا کر دیں تو جیسا کہ ابھی بعض دوستوں نے بیان کیا ہے صرف اتنا کرنا پڑے گا کہ چندہ عام کی شرح بجائے ایک آنہ فی روپیہ کے مثلاً چھ پیسے فی روپیہ مقرر کر دینی پڑے گی۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے خواہ ہم چھ پیسے شرح مقرر کر دیں ، جماعت کے اندر اس طرح نیکی کی وہ تحریک پیدا نہیں ہوگی جو ان مدات کو الگ الگ رکھنے کی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ کو بھی دیکھ لوکس طرح وہ بار بار مختلف شکلوں میں نیکی کی تحریک کرتا ہے۔مثلاً صبح کی نماز ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ تم صبح چار رکعت نماز پڑھ لیا کرو بلکہ حکم دیا تو یہ کہ دوسنتیں پڑھو اور دو فرض ادا کرو۔اس طرح بھی رکھتیں تو چارہی رہتی ہیں مگر چونکہ دو دورکعتیں الگ الگ پڑھی جاتی ہیں اس لئے ایک نماز کے ختم ہونے پر انسان کہتا ہے آداب میں دوسری نماز بھی پڑھ لوں اور اس طرح اس کے دل میں نیکی کی اور خواہش پیدا ہوتی ہے یا مثلاً ظہر کے پہلے اور پیچھے چار چارسنتیں اور درمیان میں چار فرض ہیں۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمیں یہ کہ دیا جاتا کہ ظہر کے وقت ۱۲ رکعت نماز اکٹھی پڑھ لیا کرو تو بظاہر اس میں کوئی حرج نہ تھا۔اب بھی ہم ۱۲ رکعت پڑھتے ہیں اور اُس صورت میں بھی ہمیں ۱۲ رکعت نماز ہی پڑھنی پڑتی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس طرح ہمیں حکم نہیں دیا بلکہ چار چار الگ الگ رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ رکعتوں کے مختلف حصے کر کے انسانی دماغ میں ایک ترتیب پیدا کی جاتی ہے اور اس کے دل پر طبعی طور پر یہ اثر ہوتا ہے کہ اب میں ایک اور نیکی کا کام