خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 673 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 673

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء جہاں تک جذبات کا سوال ہے یہ بات زیادہ معیوب نظر آتی ہے کہ ایک احمدی عورت کسی ڈاکٹر کے سامنے اپنا منہ تنگا کرے مگر شریعت نے ہمیں جذبات کا تابع نہیں کیا۔یہ تو کہا ہے کہ جہاں تم مجبور ہو وہاں ایسا کر سکتے ہو جیسے اگر کسی عورت کے سینہ پر سرطان نکل آئے تو وہ مجبور ہوگی کہ اپنے پستانوں کا کچھ حصہ نگا کرے۔یا پیٹ پر پھوڑا ہو تو اُسے بہر حال پیٹ پر سے کپڑا اُٹھانا پڑے گا۔یا اگر آنول پھنس گئی ہو اور نرس موجود نہ ہو تو لازماً کسی ڈاکٹر کو علاج کے لئے بلانا پڑے گا مگر یہ مجبوری اُس عورت کی ذاتی ہوگی جس کو دیکھتے ہوئے شریعت اُسے فتوی دے دے گی کہ وہ ڈاکٹر سے علاج کروا سکتی ہے۔چنانچہ میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سُنا کہ ہمارے نزدیک اگر کسی عورت کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا ہو اور نرس موجود نہ ہو یا نرس فیصلہ کر دے کہ اب علاج کرنا میری طاقت سے بالا ہے تو ایسی حالت میں اگر کوئی اور نرس نہیں مل سکتی اور ڈاکٹر موجود ہے تو عورت کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ڈاکٹر کو بلائے اور بچہ جنوائے۔اُس وقت یہ تو نہیں دیکھا جائے گا کہ ایک ڈاکٹر کے سامنے عورت کو ننگا نہیں ہونا چاہئے بلکہ اُس وقت ضروری ہوگا کہ وہ اس سے علاج کرائے بلکہ آپ نے فرمایا اگر وہ عورت مرد ڈاکٹر سے بچہ نہ جنوائے اور اسی حالت میں مر جائے تو ہمارے نزدیک وہ خود کشی کرنے والی سمجھی جائے گی۔اب دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انتہائی نازک حالت میں ایک عورت کے لئے مرد ڈاکٹر سے بچہ جنوانا بھی جائز قرار دے دیا اور فرمایا کہ اگر وہ ایسا نہ کرے اور اسی حالت میں مرجائے تو ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ اُس نے پردہ کے حکم پر عمل کیا بلکہ ہم یہ سمجھیں گے کہ اُس نے خود کشی کا ارتکاب کیا۔مگر آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ چونکہ احمدی عورتیں اس قسم کے حالات میں شہید ہو سکتی ہیں یا ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو سکتی ہیں اس لئے احمدی لڑکیوں کو مخلوط تعلیم دلا کر ڈاکٹری کا فن سکھا دیا جائے۔یا یہ کہ اگر ہماری لڑکیاں ڈاکٹری نہیں سیکھیں گی تو وہ اس قسم کی عورتوں کی موت کی ذمہ دار ہوں گی اس لئے کہ وہ مجبوری ایک عورت کی ذاتی مجبوری ہے۔ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کی مجبوری کی وجہ سے ہم خود بھی شریعت کے احکام کو نظر انداز کر دیں۔شریعت نے یہ تو کہا ہے کہ زید مجبور ہو تو وہ ایسا کرے مگر یہ نہیں کہا کہ زید مجبور ہو تو بکر فلاں بات کرے۔زید کو اپنی مجبوری تک شریعت کے