خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 671 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 671

خطابات شوری جلد دوم ۶۷۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء ” جو دوست اس بارہ میں کچھ کہنا چاہتے ہوں وہ اپنے نام لکھوا دیں۔“ ” دوستوں نے تمام خیالات سُن لئے ہیں جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں کہ مخلوط تعلیم کو گلیہ روک دیا جائے اور جماعت میں اس کے متعلق اعلان کر دیا جائے کہ سلسلہ احمدیہ مخلوط تعلیم کی اجازت نہیں دیتا۔اس کے بعد جو لوگ اس حرکت کے مرتکب ہوں اُن سے پہلے جواب طلبی کی جائے اور پھر انہیں سرزنش کی جائے۔جس کی حد اخراج از جماعت تک ہو سکتی ہے۔وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۲۹۵ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا :- اگر کوئی دوست اس تجویز کے خلاف ہوں تو وہ بھی کھڑے ہو جائیں۔“ چار دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا : - میں کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں کہ مخلوط تعلیم کسی صورت میں بھی درست نہیں سمجھی جاسکتی۔نظارت تعلیم و تربیت کو اس کے انسداد کے متعلق جماعت میں ایک اعلان کرنا چاہئے تا کہ ہر شخص کو علم ہو جائے کہ مرکز اس بارہ میں کیا رائے رکھتا ہے۔اس کے بعد جولوگ اس جرم کے مرتکب ہوں اُن سے جواب طلبی کی جائے اور انہیں اصلاح کی طرف توجہ دلائی جائے۔اگر اس تنبیہ کے باوجود ان کی اصلاح نہ ہو تو انہیں سزا دی جائے۔جس کی حد اخراج از جماعت تک ہو سکتی ہے۔“ اس کے بعد حضور نے فرمایا : - پردے کی استثنائی صورتیں۔دد میں اس موقع پر کچھ اور بھی کہنا چاہتا ہوں۔یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ اسلام نے مجبوری کی حالت میں بعض باتوں کی اجازت دی ہے جن کی غیر مجبوری کی حالت میں اجازت نہیں دیتا۔یہ درست ہے۔بالخصوص پردہ کے متعلق اسلامی احکام مجبوری اور غیر مجبوری سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم پردہ کرو۔إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا۔ہاں جو حصہ آپ ہی آپ ظاہر ہو جائے اُس کو چھپانے کا حکم نہیں دیتے کیونکہ وہاں مجبوری ہے۔جیسے قد ہے، اسے کوئی عورت چھپا نہیں بعض عورتوں کا جسم اتنا بد نما ہوتا ہے کہ برقع یا چادر کے اندر بھی اس کی بدنمائی انسان کو نظر آجاتی ہے اور وہ کسی معقول ذہنیت رکھنے والے کے لئے کشش کا موجب نہیں ہوسکتا۔