خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 666
خطابات شوری جلد دوم ۶۶۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء کھلی ہوں گی اور وہ خوشی سے ان کی تربیت کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ جماعت کے اندر یہ احساس پیدا کر دیا جائے کہ یتیم کی پرورش، یتیم کی پرورش کرنا نہیں بلکہ اپنی اور اپنے بچوں اور اپنی قوم کی پرورش کرنا ہے۔بغیر اس احساس کے کوئی قوم حقیقی رنگ میں قربانی نہیں کر سکتی اور بغیر اس احساس کے کوئی قوم صحیح معنوں میں بہادر نہیں بن سکتی۔جس دن یتیم ہونے کا احساس تم بچوں کے دلوں سے مٹا ڈالو گے، جس دن یتیم کو تم اُسی نگاہ سے دیکھو گے جس نگاہ سے تم اپنے بچوں کو دیکھتے ہو اُس دن ہر انسان خدا کے لئے خوشی کے ساتھ صلیب پر لٹکنے کے لئے تیار ہو جائے گا اور وہ کہے گا میرے لئے موت سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ میری قوم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو میرے بچوں کے منہ پر تھپڑ مارنے کی بجائے محبت اور پیار کے ساتھ اُن کو اپنے گلے سے لگائیں گے۔وہ خود ٹھو کے رہنے کے لئے تیار ہوں گے مگر یہ برداشت نہیں کریں گے کہ یتیم بچہ بھوکا رہے۔وہ خود ننگے رہنے کے لئے تیار ہوں گے مگر یہ برداشت نہیں کریں گے کہ یتیم بچہ نگا ر ہے۔جس دن یہ احساس ہمارے اندر پیدا ہو جائے گا وہی دن ہوگا جب قوم کا ہر فرد بہادری کے ساتھ خدا کی راہ میں اپنی جان دینے کے لئے تیار ہو جائے گا اور بُزدلی کا نشان تک لوگوں کے دلوں سے مٹ جائے گا۔“ اسلامی پردہ اور مخلوط تعلیم نظارت تعلیم وتربیت کی یہ تجویز کہ بعض افراد بے پردگی اور مخلوط تعلیم کو رواج دے رہے ہیں اس کے انسداد کے لئے تجاویز پر غور ہونا چاہئے۔مجلس مشاورت میں زیر بحث آئی۔مکرم ملک عبدالرحمن خادم صاحب گجراتی اور بعض دیگر احباب نے اپنی آراء پیش کیں۔اس موقع پر حضور نے اسلامی پردہ کی وضاحت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا :- میں اس وقت خادم صاحب کی بعض باتوں کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو بُر تھے اس وقت تک رائج ہیں وہ اس پر دے کے موجب نہیں ہو رہے جس کا اسلام تقاضا کرتا ہے مگر میرے نزدیک جو پرانی طرز کا برقع ہے اور جس کی انہوں