خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 660
خطابات شوری جلد دوم ۶۶۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء نہیں بلکہ ہماری تبلیغ کو زیادہ موثر اور نتیجہ خیز بنا سکتا ہے۔اگر جماعت کے افراد مختلف ملکوں اور شہروں اور گاؤں میں نکل جائیں۔دوسروں کے گھروں سے روٹی مانگ کر کھائیں اور رات دن تبلیغ کرتے رہیں تو کیا یہ ذلیل کام ہوگا ؟ وہ سوال ذلت کا موجب ہوتا ہے جو اپنے نفس کے لئے ہو لیکن جو سوال خدا اور اس کے دین کی اشاعت کے لئے ہو وہ ہرگز کسی مومن کے لئے ہتک کا موجب نہیں ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ مومن ہوتا ہی ” منگتا ہے صبح ہوتی ہے تو مانگتا ہے، ظہر ہوتی ہے تو مانگتا ہے ، عصر ہوتی ہے تو مانگتا ہے، شام ہوتی ہے تو مانگتا ہے، پھر عشاء آتی ہے تو مانگتا ہے، آدھی رات کا وقت آتا ہے تو مانگتا ہے۔پس خالی مانگنا بُری چیز نہیں بلکہ اُن خسیس جذبات کے ساتھ دوسروں سے کچھ مانگنا بُرا ہوتا ہے جن خسیس جذبات کے ساتھ سائل اور گدا گر بھیگ مانگتے ہیں۔ورنہ خدا سے کچھ مانگنا ہر گز بُری بات نہیں۔ہم خدا سے روزانہ مانگتے ہیں اور اس مانگنے میں ہی ہماری ساری عزت ہے۔“ حضور نے اس موقع پر اعلان فرمایا کہ :- ,, ملک عبد الرحمن صاحب قصور والے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ بتائی ومساکین کی امداد کے لئے پچاس روپے ماہوار دیا کریں گے۔جَزَاهُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ اس اعلان کے بعد فرمایا:- ہمیں اس بات کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ بعض دفعہ ایک رنگ کے الفاظ اُسی قسم کے دوسرے حصہ پر بھی بُرا اثر ڈال دیتے ہیں۔اگر ہم مانگنے کو بُرا قرار دیں اور اس کی شناعت اور بُرائی پر انتہائی زور دیں تو اس سے لازماً یہ اثر بھی پیدا ہوسکتا ہے کہ جماعتی ضروریات کے لئے لوگوں سے کچھ مانگنا بھی بُری بات ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں۔جماعتی ضروریات کے لئے لوگوں سے روپیہ مانگنا اور اُن سے بار بار اس کا تقاضا کرنا قومی ترقی کے لئے نہایت ضروری ہوا کرتا ہے۔مگر میں نے دیکھا ہے غرباء تو پھر بھی مانگ لیتے ہیں، اور امراء پر جماعتی ضروریات کے لئے لوگوں سے چندہ مانگنا نہایت ہی گراں گزرتا ہے اور بعض لوگ اسی بات کو طعنے کے طور پر پیش کر دیتے ہیں۔مثلاً لوگوں میں لانگری کا ایک لفظ رائج ہے جو عام طور پر دوسرے کی تحقیر کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ فلاں شخص ایسا ہے جیسے اُس نے مجاوروں کی طرح کسی کی قبر پر لنگر جاری کر رکھا ہو اور وہ اس