خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 659
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء اس کے اخراجات کا کیا انتظام ہو۔سیٹھ محمد صدیق صاحب آف کلکتہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس غرض کے لئے ۱۰۰ روپیہ ماہوار دیا کریں گے۔جَزَاهُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ میں اِس دوست کا شکر یہ ادا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ اس نیکی کی ان کو جزائے خیر عطاء فرمائے اور دنیا و آخرت میں اس کا بہتر سے بہتر بدلہ دے۔لیکن بہر حال صدر انجمن احمد یہ کوکسی انفرادی امداد پر انحصار نہیں رکھنا چاہئے۔اسے پورے طور پر غور کرنا چاہئے کہ مالی مشکلات جن کا اس شعبہ سے تعلق ہے کس طرح دور ہوسکتی ہیں۔مانگنے کی ایک صورت دار الشیوخ کے متعلق جماعت میں زیادہ تر احساس اِس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ طلباء کے سپر دگھروں سے آٹا مانگ کر لانے کا کام کیا جاتا ہے جو بہت تکلیف دہ ہے۔مجھے اس بارہ میں خود بھی ایک تجربہ ہے۔میں ایک دفعہ گھر گیا تو میں نے ایک چھوٹے سے لڑکے کو کھڑا دیکھا۔میں نے اُس سے پوچھا کہ تم کس طرح آئے ہو؟ اِس پر اُس نے کہا ” آٹا مانگنے“۔اور جب اُس نے یہ کہا میں نے دیکھا کہ اُس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔میں نے اُسے تسلی دی اور کہا کہ تم کچھ فکر نہ کرو آئندہ تم ہمارے ہاں آ کر کھانا کھا لیا کرو چنانچہ اس کے بعد میں اُس کے کھانے کا خرچ ایک لمبا عرصہ تک دیتا رہا۔تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض طالب علم ایسے ہیں جن پر آٹا مانگ کر لانا انتہائی طور پر گراں گزرتا ہے۔ممکن ہے کہ بعض طبائع میں یہ احساس نہ بھی ہو مگر پھر بھی اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اخلاق پر اس کا بُرا اثر پڑتا ہے اور شریعت نے جو مانگنے سے روکا ہے اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔گومیں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ انسان کو کسی صورت میں بھی دوسروں سے مانگنا جائز نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر گاؤں والے پر تین دن کی مہمانی فرض ہے۔جب یہ بات سنی تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! اگر وہ نہ دیں تو کیا کیا جائے۔آپ نے فرمایا اُن سے مانگو اور اگر وہ پھر بھی نہ دیں تو اُن سے چھین لو، یہ تمہارا حق ہے۔اب دیکھو شریعت نے مانگنا منع کیا تھا مگر اس مقام پر آکر جائز ہو گیا۔میں تبلیغی حالات پر غور کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بعض حالات میں تبلیغ کے لئے نہ صرف مانگنا مصر صحاب