خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 651 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 651

خطابات شوری جلد دوم ۶۵۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء آئندہ عہد یداران کا انتخاب ایک مجلس منتخبہ کے ذریعہ ہونا چاہئے تو یہ دوسروں کا حق چھیننا نہیں کہلائے گا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اپنا حق دوسروں کو منتقل کر دیا ہے۔پس اگر واقعہ میں نمائندگان نے جماعت کے تمام دوستوں سے یہ بات پوچھ لی تھی اور پھر اکثریت نے اس تجویز کے حق میں اپنی رائے دی تھی تو پھر اس غرض کے لئے اگر ہر جماعت میں سے چند آدمی منتخب ہو جائیں تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ دوسروں نے اُن کا حق چھین لیا۔ہاں اگر ایجنڈا دوستوں کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تھا تو پھر بے شک یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ اس تجویز سے دوسروں کے حقوق پر اثر پڑتا ہے۔بہر حال اس بات کے فیصلہ کے لئے کہ نمائندگان نے اپنی اپنی جماعتوں کے سامنے ایجنڈا پیش کیا تھا یا نہیں ، میں سب سے پہلے اسی بات کو لیتا ہوں۔جن نمائندگان نے شائع شدہ ایجنڈا جماعت کے سامنے پیش کر دیا تھا اور پھر اکثریت نے یہ کہا تھا کہ تجویز معقول ہے بے شک ایک مجلس انتخاب 66 کے ذریعہ آئندہ عہدیداران منتخب ہوا کریں وہ مہربانی فرما کر کھڑے ہو جائیں۔“ حضور کے اس ارشاد پر سات حلقوں میں مندرجہ ذیل نسبت سے دوست کھڑے ہوئے :- حلقہ نمبرا حلقہ نمبر ۵ حلقہ نمبر ۲ حلقہ نمبر ۳ حلقہ نمبر۴ ۲۹ ۱۹ ۱۴ حلقہ نمبر ۶ حلقہ نمبرے میزان جنہوں نے جماعتوں سے مشورہ لیا تھا۔حضور نے فرمایا:- ۲۹ ۱۵ ۹ 117 اب یہ اندازہ لگانا ہے کہ جماعتی نمائندے اس وقت کتنے ہیں تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ کس نسبت سے دوست کھڑے ہوئے ہیں۔چنانچہ جماعتوں کی طرف سے جس قدر 66 نمائندے آئے ہوئے ہیں وہ سب کھڑے ہو جائیں۔“ حضور کے اس ارشاد پر تمام نمائندگان کھڑے ہو گئے۔اور مردم شماری پر اُن کی تعداد مختلف حلقوں کے لحاظ سے ۲۲۸ معلوم ہوئی۔تفصیل یہ ہے:۔