خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 650 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 650

خطابات شوری جلد دوم پھر اس سوال کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہم انتخاب کے تمام حقوق جماعت کے چند افراد کے ہاتھوں میں محصور کر دیں اور وہی مشورہ دینے کا حق رکھتے ہوں تو باقی جماعت عضو معطل کے طور پر رہ جائے گی اور اس کے اندر غور اور فکر کرنے اور معاملات کو تذ تر سے سلجھانے کی قوت یقیناً کم ہو جائے گی۔پس اگر تو یہ صورت ہے کہ اس وقت ہم چند افراد نے اکٹھے ہو کر فیصلہ کر دینا ہے کہ انتخاب نمائندگان کا حق افراد سے لے کر ایک مخصوص جماعت کو دے دیا جائے جو افراد پر مشتمل ہو اور ہم یہ نہیں دیکھتے کہ جماعت کی عام رائے کیا ہے تو یقیناً اس سے کئی قسم کے خطر ناک نقائص پیدا ہو سکتے ہیں اور سوچنے اور غور کرنے کا معیار بھی یقیناً گر جائے گا۔مگر ہمارے ہاں یہ دستور ہے کہ ایجنڈا جب جماعتوں میں جاتا ہے تو سب دوستوں کو پڑھ کر سُنا دیا جاتا ہے اور اُن کی آراء نمائندگان کی وساطت سے ہمارے سامنے پیش ہوتی ہیں۔بیشک ہم نے نمائندگان کو یہ اجازت دی ہوئی ہے کہ وہ اپنی آزاد رائے بھی پیش کر سکتے ہیں لیکن اُن کا پہلا فرض یہی ہے کہ وہ جماعت کی رائے جس کے وہ نمائندہ ہیں پیش کریں۔اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ انسان اپنی رائے کا حق کلیۂ تلف کر دے مگر اسے یہ حق بھی حاصل نہیں ہوتا کہ وہ جماعت کی اکثریت کا مشورہ پیش نہ کرے حالانکہ اکثریت نے ہی اُسے نمائندہ بنا کر بھجوایا ہوتا ہے۔(پس اگر جماعت کی اکثریت سے نمائندگان نے پوری طرح مشورہ لیا ہے اور اکثریت نے یہی رائے دی ہے۔) کہ آئندہ ایک مجلس انتخاب کے ذریعہ سے عہد یداران مقرر ہوا کریں تو پھر یہ سوال جاتا رہے گا کہ لوگوں کے ووٹ دینے کا جو حق حاصل تھا وہ اس طرح چھین لیا جائے گا۔مجھے یہ معلوم نہیں کہ دوستوں نے ہر جماعت میں ایجنڈا سُنایا ہے یا نہیں لیکن اگر جماعت کی اکثریت نے یہی رائے دی ہے تو پھر حق کو چھینے کا سوال کسی صورت میں بھی اُٹھایا نہیں جا سکتا۔جو شخص خوشی سے اپنا حق دوسرے کو دے دیتا ہے اُس کے متعلق یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اُس کا حق چھین لیا گیا ہے۔ہاں اگر جماعت کے مشورہ کے بغیر ہم ان کا حق ایک مجلس انتخاب کے سپر د کر دیتے ہیں تو یہ چیز یقیناً ایسی ہوگی جو اُن کا حق چھننے کے مترادف ہوگی۔لیکن فرض کرو یہ مسئلہ ساری جماعت کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور سب نے یا اُن کی اکثریت نے یہ مشورہ دیا تھا کہ