خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 642
خطابات شوری جلد دوم ۶۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء ریز روفنڈ قائم کرنا ہے۔جنگ کے ختم ہونے کے معاً بعد آمد کم نہیں ہو جاتی بلکہ دو تین سال میں آہستہ آہستہ کمی آ جاتی ہے اس لئے چار پانچ سال کے عرصہ میں صدر انجمن احمد یہ کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ چھ سات لاکھ روپیہ ریز روفنڈ کے طور پر جمع ہو جائے تا کہ اگر سلسلہ پر کسی وقت کوئی غیر معمولی بوجھ آپڑے تو ہم بغیر پریشان ہوئے اور بغیر جماعت کو پریشان کرنے کے اس بوجھ کو اُٹھا سکیں بلکہ ہمیشہ یہ اصول اپنے مد نظر رکھنا چاہئے کہ جب بھی آمد میں غیر معمولی زیادتی ہو اُس کا ایک معتد بہ حصہ جمع کیا جائے اور اس طرح ریز روفنڈ کو بڑھا دیا جائے یہاں تک کہ وہ اتنا مضبوط ہو جائے کہ اس ریز رو فنڈ کی آمد سے ہی سلسلہ کے زائد اخراجات پورے ہو سکیں۔پس میری ایک تجویز تو یہ ہے کہ ۴۲۔۱۹۴۱ء کے بجٹ سے پندرہ ہزار کی تخفیف پر ہر سال کے بجٹ کی بنیاد رکھی جائے اور جو زیادتیاں ہم نے منظور کی ہیں اُن کو عارضی زیادتی کے طور پر شامل کیا جائے نہ کہ مستقل زیادتی کے طور پر۔مثلاً کارکنوں کے لئے میں نے خود حکماً صدر انجمن احمدیہ سے کچھ رقوم مقرر کرائی ہیں جو قحط الاؤنس کے طور پر اُن کو دی جاتی ہیں مگر یہ ایک عارضی خرچ ہے۔جنگ ختم ہوئی اور حالات میں تبدیلی پیدا ہو گئی تو یہ خرچ بھی بند ہو جائے گا۔پس ایسے اخراجات کو اصل بجٹ سے علیحدہ دکھایا جائے اور بتایا جائے کہ ہم نے اتنی رقم عارضی طور پر زائد کی ہوئی ہے۔کارکنوں کے لئے جنگ الاؤنس کی ہدایت میں اس موقع پر یہ کہ دینا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ پنجاب گورنمنٹ نے اپنے ملازموں کے لئے نئے الاؤنس مقرر کئے ہیں اور وہ پہلے الاؤنسوں سے زیادہ ہیں۔سب کمیٹی کو چاہئے کہ وہ گورنمنٹ کے اس اعلان کو بھی مدنظر رکھ لے اور اس امر پر بھی غور کرے کہ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ہم بھی اپنے کارکنوں کے الاؤنس بڑھا کر گورنمنٹ کے مقرر کردہ الاؤنسوں تک پہنچا دیں۔۲۲ /اپریل ۱۹۴۳ء کے سول اینڈ ملٹری گزٹ میں اس کی تفصیلات شائع ہوئی ہیں۔جو یہ ہیں کہ گورنمنٹ کی طرف سے آئندہ پندرہ روپے تنخواہ پر سات روپیہ ماہوار الاؤنس دیا جائے گا۔پندرہ سے اوپر ہمیں روپیہ تنخواہ تک ساڑھے آٹھ روپے ماہوار الاؤنس دیا جائے گا۔ہمیں سے تیس روپیہ تنخواہ تک ساڑھے نو روپے ماہوار الاؤنس دیا جائے گا۔تمیں سے چالیس روپے تنخواہ تک ساڑھے دس روپیہ ماہوار الاؤنس دیا جائے گا۔