خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 640
۶۴۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء خطابات شوری جلد دوم اس کے کہ وہ غیر ضروری اخراجات کم کرتے انہوں نے ضروری اخراجات کاٹ کر پندرہ ہزار روپیہ کم کر دیا۔اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ گو کہ اس وقت انہوں نے پندرہ ہزار روپیہ کم کر دیا تھا مگر بعد میں مجھے ان اخراجات کو بڑھانا پڑتا اور اس طرح صدرانجمن احمد یہ ایک ہی وقت میں یہ سمجھ لیتی کہ اس نے میرے حکم کی تعمیل بھی کر دی ہے اور پندرہ ہزار روپیہ کم بھی نہیں کیا کیونکہ بعد میں مجبوراً مجھے وہ اخراجات بڑھانے پڑتے۔میں امید کرتا تھا کہ اب کے صدر انجمن احمد یہ زیادہ ہوشیاری سے کام کرے گی مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس دفعہ پھر اس نے غلط بجٹ بنایا ہے اور وقت کی ضرورت اور اُن روکوں کو جو سلسلہ کے کاموں میں پہلے پیدا ہوتی رہی ہیں مد نظر نہیں رکھا۔بجٹ ابھی آپ کے سامنے نہیں آیا ہوگا مجھے بھی کل ہی اس کی کاپی ملی ہے۔اس کو دیکھ کر آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔پچھلے سال کا بجٹ اخراجات معمولی ۲۹۱۸۳۱ تھا۔مگر اس سال کا بجٹ اخراجات معمولی ۴۰۰۳۳۶ ہے۔گویا ۴۳ ۱۹۴۲ء کے بجٹ سے بھی ایک لاکھ آٹھ ہزار پانچ سو پانچ روپیہ زیادہ ہے۔اور بجائے اس کے کہ ۴۳ ۱۹۴۲ء کے بجٹ سے پندرہ ہزار روپیہ کم رکھا جاتا ایک لاکھ آٹھ ہزار روپیہ کی زیادتی کر دی گئی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری آمد بڑھ گئی ہے اور اس کو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن اس بات کو مد نظر نہیں رکھا گیا کہ یہ آمد وقتی حالات کے ماتحت بڑھی ہے۔مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ کا ٹا نہیں جاتا۔پچھلی جنگ میں بھی ہماری آمد بڑھ گئی تھی مگر غلطی سے اُس آمد کو مستقل آمد سمجھ کر انجمن نے اپنے اخراجات کو بہت بڑھا دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۲۰،۲۱ء میں ہماری مالی حالت اس قدر کمزور ہوگئی کہ ہمیں اپنے اخراجات میں بہت کچھ کمی کرنی پڑی۔کچھ کا رکن بھی الگ کرنے پڑے اور تنخواہوں میں بھی تخفیف کرنی پڑی اس طرح پھر زور لگا کر چار پانچ سال کی جدو جہد کے بعد ہماری مالی حالت کسی قدر درست ہوئی۔مگر پھر صدرانجمن احمدیہ نے اپنے اخراجات بڑھانے شروع کر دیے اور پھر ہماری مالی حالت پر ایک تزلزل کی کیفیت طاری ہو گئی۔چنانچہ آخری دفعہ ۱۹۳۸ء میں تین سال کے لئے صدر انجمن کے کارکنوں کی ترقیات کو روک دیا گیا اور نہ صرف ترقیات کو روک دیا گیا بلکہ ان کی تنخواہوں میں سے تین سال مسلسل کٹوتی کی گئی۔اسی طرح مالی تنگی کی وجہ سے تین مبلغین کی سالانہ زیادتی کو ملتوی کیا گیا، مبلغین کے دورے محدود کئے گئے اور