خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 639
۶۳۹ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء بیسیوں عورتیں محض اس وجہ سے مرجاتی ہیں کہ قادیان میں علاج کے لئے کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں۔وہ کہتی ہیں بھینسوں کے خریدنے کے لئے مردوں کو چونکہ روپیہ خرچ کرنا پڑتا ہے اس لئے امور عامہ کو شاید اُن کے بچانے کا فکر ہے مگر عورتوں کے لئے چونکہ روپیہ خرچ کرنا نہیں پڑتا اس لئے اُن کی جان بچانے کا انہیں کوئی فکر نہیں۔وہ کہتی ہیں ہماری یہ ترمیم ہے کہ یا تو شفاخانہ حیوانات کی تجویز کے ساتھ ہی ہمارے لئے لیڈی ڈاکٹر کا بھی انتظام کیا جائے اور دونوں تجویزوں کو پاس کیا جائے اور اگر ایک تجویز کو ہی پاس کرنا ہے تو لیڈی ڈاکٹر رکھنے کی تجویز کو پہلے منظور کیا جائے اور حیوانوں کے شفاخانہ کا معاملہ ملتوی کر دیا جائے۔نظارت بہشتی مقبرہ کی جو تجویز ہے کہ آئندہ ہر موصی کو اجازت دی جائے کہ وہ اپنا چنده براه راست فنانشل سیکرٹری مجلس کار پرداز قادیان کے نام بھیجے۔یہ تجویز بھی درحقیقت صدر انجمن احمدیہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے مگر چونکہ ممکن ہے اس طریق کو اختیار کرنے میں سیکرٹریان جماعت کو مشکلات ہوں اس لئے میں اسے پیش کرنے کی اجازت دے دیتا ہوں مگر اس کے لئے کسی الگ کمیٹی کی ضرورت نہیں۔نظارت بیت المال کے لئے جو کمیٹی مقرر کی جائے گی وہی سب کمیٹی نظارت بہشتی مقبرہ کی تجاویز پر بھی غور کرے گی۔نظارت بیت المال کی سب کمیٹی کے لئے میں ۲۱ بجٹ کے بارہ میں اہم ہدایات آدمی تجویز کرتا ہوں۔مگر پیشتر اس کے کہ سب کمیٹیوں کے لئے ممبران کا انتخاب کیا جائے اور اس بارہ میں دوستوں سے مشورہ لیا جائے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس سال کا بجٹ پھر غلط بنایا گیا ہے۔اس بجٹ میں غلطی یہ ہے کہ جب سلسلہ کا بار بڑھ گیا تو میں نے تجویز یہ کی تھی کہ ۳۶۔۱۹۳۵ء کی آمد کے بجٹ سے ہمیشہ ۱۵ ہزار روپیہ کم خرچ کا بجٹ تجویز کیا جایا کرے۔مگر باوجود میری تاکید کے کسی نہ کسی طرز پر صدر انجمن احمد یہ اپنے اخراجات کو بڑھاتی چلی گئی اور چونکہ ان بڑھائے ہوئے اخراجات کو بعد میں روکا نہیں جاسکتا اس لئے میں نے چند سال بعد یہ قانون بنا دیا کہ آئندہ اخراجات کا بجٹ ہمیشہ ۴۲۔۱۹۴۱ء کے بجٹ سے ۱۵ ہزار کم رکھا جائے۔۴۳۔۱۹۴۲ء میں انجمن نے جب بجٹ بنایا تو گو اس میں پندرہ ہزار کی کمی کر دی گئی تھی مگر وہ اس قسم کی کمی تھی جس پر گزشتہ سال مجھے افسوس کے ساتھ صدر انجمن احمدیہ کو تنبیہ کرنی پڑی تھی۔یعنی بجائے