خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 638 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 638

خطابات شوری جلد دوم ۶۳۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء کرتے بلکہ ایک تنخواہ دار آدمی رکھ لیا گیا ہے، اُن کی تسلی ہو گئی ہے یا نہیں۔ممکن ہے اُن کے نزدیک بعض اور عیوب کی اصلاح بھی مد نظر ہو اس لئے سب کمیٹی اس تجویز پر بھی غور کرے گی۔اگر لائل پور کی جماعت کی تسلی ہوگئی تو اس تجویز کو اُڑا دیا جائے گا ورنہ اس پر بحث کر کے دوستوں کی رائے معلوم کر لی جائے گی۔نظارت تألیف و تصنیف کی تجویز کو پیش کرنے کی میں اجازت نہیں دیتا کیونکہ یہ خلاف قاعدہ ہے۔میں نے بار بار بتایا ہے کہ مجلس شوری میں وہ معاملہ پیش کرنا چاہئے جس کے اخراجات کا لوگوں کے ساتھ تعلق ہو۔جس امر کے متعلق جماعت پر کوئی ذمہ داری نہ ہو اُسے مجلس شوریٰ میں پیش کرنا بالکل فضول بات ہے۔اس تجویز میں یہ کہا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حالات زندگی اور سلسلہ کے متعلق ضروری معلومات کا انگریزی میں خصوصاً اور دوسری زبانوں میں عموماً ترجمہ ہونا چاہئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا ترجمہ ہونا چاہئے اور یہ کہ اس کے لئے دوستوں کی خدمات آنریری طور پر حاصل کی جائیں۔میرے نزدیک یہ کوئی ایسی تجویز نہیں جسے مجلس میں پیش کرنے کی ضرورت ہو۔اس کا تعلق محض ناظر صیغہ کے ساتھ ہے۔اگر اُن کے نزدیک ایسا ہونا ضروری ہے تو انہیں اس پر فوری طور پر عمل شروع کر دینا چاہیئے ، انہیں کس نے منع کیا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں۔پس اس تجویز کو مجلس میں پیش کرنا وقت کو ضائع کرنے والی بات ہے۔نظارت امور عامہ کے لئے بھی میں دس آدمیوں کی سب کمیٹی مقرر کرتا ہوں مگر میرے پاس نظارت امور عامہ کی تجویز کے متعلق ایک ترمیم آئی ہے بلکہ ترمیم کیا وہ تو ایک رنگ میں اس کی تنسیخ بن جاتی ہے اس لئے میں اسے بھی پیش کر دیتا ہوں۔وہ ترمیم یا تنسیخ لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کی طرف سے ہے۔وہ لکھتی ہیں تعجب ہے کہ حیوانات جو تھوڑی یا بہت قیمت پر خریدے جا سکتے ہیں اُن کے لئے تو نظارت امور عامہ کو یہ احساس ہوا ہے کہ ایک شفاخانہ حیوانات کھولا جائے کیونکہ گزشتہ سال حیوانات کی کافی تعداد بروقت علاج میسر نہ آنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئی مگر مستورات جن کی جانیں کسی قیمت پر بھی دوبارہ خریدی نہیں جاسکتیں اُن کے لئے نظارت امور عامہ کو کوئی فکر نہیں حالانکہ ہر سال