خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 636
خطابات شوری جلد دوم ۶۳۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء پیش کیا گیا ہے حسب دستور اِس کے متعلق آج ہم سب کمیٹیاں تجویز کریں گے جو اپنی اپنی جگہ پر غور کر کے ان امور کے متعلق اپنی رائے ہمارے سامنے کل پیش کریں گی کہ اُن کے نزدیک ان تجاویز پر کس حد تک عمل کیا جانا چاہئے یا نہ کیا جانا چاہئے۔میں نے گزشتہ شوریٰ کے اجلاسوں کے ممبران سب کمیٹیوں کے لئے ہدایات موقع پربھی دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ان کمیٹیوں میں ایسے ہی آدمیوں کے نام لینے چاہئیں جو اس کے لئے کافی وقت دے سکیں اور ان مضامین کے ساتھ اُن کو کچھ مناسبت ہو۔پھر یہ امر بھی مد نظر رکھا جائے کہ ہر قسم کے لوگوں کو نمائندگی کا موقع دینا چاہئے۔وہ گاؤں کے لوگ بھی ہوں وہ ان پڑھ بھی ہوں اور وہ مختلف صوبوں کے بھی ہوں۔جہاں تک مضامین کے ساتھ مناسبت کا سوال ہے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس بارہ میں پڑھوں اور ان پڑھوں میں کس قدر امتیاز کی ضرورت ہے۔میں نے دیکھا ہے بہت سے ان پڑھ ہوتے ہیں مگر انہیں سوچنے کی عادت ہوتی ہے اس لئے مختلف مضامین کے متعلق پہلے سے سوچی ہوئی تجاویز کو ایسی عمدگی سے پیش کر دیتے ہیں کہ کئی پڑھے لکھے آدمی جن کو سوچنے کی عادت نہیں ہوتی وہ اس عمدگی کے ساتھ تجاویز پیش نہیں کر سکتے۔پس جب میں نے یہ کہا کہ ایسے ہی لوگوں کو سب کمیٹیوں کے لئے مقرر کرنا چاہئے جو ان سب کمیٹیوں کے کام کے ساتھ مناسبت رکھتے ہوں تو اس سے میری مراد ذہنی مناسبت ہے۔یہ مراد نہیں کہ وہ گریجوایٹ ہوں یا کسی خاص حد تک تعلیم حاصل کئے ہوئے ہوں بلکہ اخلاص اور تقویٰ ہی ایسی چیزیں ہیں جو کسی شخص کو دینی کاموں کا اہل ثابت کرتی ہیں۔اگر انسان کے اندر تقویٰ اور اخلاص پایا جاتا ہو تو وہ ایسی ایسی باتیں نکال لیتا ہے کہ وہ شخص جو پڑھا لکھا تو ہومگر تقویٰ اور اخلاص اُس کے اندر نہ ہو وہ نہیں نکال سکتا۔ہمارا یہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ ایک شخص بظاہر ایک لفظ بھی پڑھا ہوا نہیں ہوتا مگر دین کے متعلق چونکہ غور کرنے کا عادی ہوتا ہے اور تقویٰ اور اخلاص اُس کے دل میں پایا جاتا ہے اس لئے وہ تقویٰ اور اخلاص اور اپنے دل کی محبت کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے وہ علوم حاصل کر لیتا ہے جو دوسرا شخص با وجود ظاہری علوم رکھنے اور عالم کہلانے کے حاصل نہیں کرسکتا۔اس کے علاوہ میں کوئی اور بات اس موقع پر نہیں کہنا چاہتا۔جب ایجنڈا پیش ہوگا