خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 616

خطابات شوری جلد دوم ۶۱۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء احمدیت سے الگ نہ ہو ایسے شخص کو روپیہ واپس کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں اور وہ چاہتے ہوں کہ وصیت کا سارا مال روپیہ کی صورت میں ہو یا جائیداد کی صورت میں قاعدہ نمبر ۱۲ کی اس تشریح کے ماتحت جو خلیل احمد صاحب ناصر نے کی ہے واپس کر دینا چاہئے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس موقع پر حضور کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ سارے مال کی واپسی کے الفاظ سے بقیہ تمام ترمیمیں رڈ ہو جاتی ہیں اس لئے یہ الفاظ اس ترمیم میں نہیں ہونے چاہئیں چنانچہ حضور نے دوبارہ فرمایا۔چونکہ سارے مال کے لفظ سے بقیہ تمام تر میمیں رڈ ہو جاتی ہیں اس لئے میں اس ترمیم میں اصلاح کرتا ہوں۔اب خلیل احمد صاحب ناصر کی ترمیم صرف اس قدر ہے کہ جس شخص کو وصیتی مال واپس کرنا ہے اُس کی کیا تعریف ہے۔ان کے نزدیک اگر کسی کو مال دینا ہوگا تو اُسی کو دیا جائے گا جو ضعف ایمان کی وجہ سے وصیت کا منکر ہو یا سلسلہ سے روگردان ہو جائے اور احمدیت سے براءت کا خود اعلان کرے۔سارا مال دینے یا آدھا دینے کا اِس وقت سوال نہیں بلکہ سوال صرف اس تعیین کا ہے کہ کسے مال واپس کیا جائے۔میں دوستوں کے سامنے ایک بار پھر یہ تجویز پیش کر دیتا ہوں خلیل احمد صاحب ناصر کے نزدیک جس کو وصیتی مال واپس کرنا ہو، سارا مال واپس کرنا ہو یا آدھا چندہ عام وضع کر کے واپس کرنا ہو یا بغیر وضع کئے ، اس کا سوال نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ جس کو وصیتی مال واپس کرنا ہے چاہے وہ کس قدر ہے وہ صرف اسی کو واپس ہونا چاہئے جو ضعف ایمان کی وجہ سے اپنی وصیت سے منکر ہو جائے یا احمدیت سے ہی روگردان ہو جائے تعزیز والا اس سے فائدہ اٹھانے کا مستحق نہیں۔جو دوست اس ترمیم کی تائید میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۱۸۰ دوست تائید میں کھڑے ہوئے۔اب جن دوستوں کی یہ رائے ہو کہ چاہے کسی کو تعزیری طور پر بھی نظامِ سلسلہ سے الگ کیا گیا ہو اُسے اُس کی وصیت کا مال واپس کر دینا چاہئے اور جن کے نزدیک قاعدہ نمبر ۱۲ کے الفاظ کوئی خاص تعیین نہیں کرتے بلکہ وہ الفاظ ہر اُس شخص پر حاوی ہیں جس کی وصیت رڈ کر دی جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔“