خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 614

۶۱۴ وہ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء کی دس روپے آمد تھی اور وہ پہلے ایک روپیہ ماہوار وصیت میں دیا کرتا تھا مگر اُس وقت اُس کا صرف ایک بچہ تھا۔اس کے بعد فرض کرو اس کے دس بچے ہو جاتے ہیں مگر آمد اتنی ہی رہتی ہے تو ان حالات میں وہ کہہ سکتا ہے کہ میرے لئے اب وصیت کا چندہ ادا کرنا ناممکن ہے میری وصیت منسوخ کر دی جائے مگر اُس کی یہ منسوخی کسی ضعف ایمان کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ بیرونی دباؤ کی وجہ سے ہوگی ورنہ اس کی نیت یہی رہتی ہے کہ اگر خدا زیادہ روپیہ دے تو پھر وہ وصیت کر دے۔پس ایسے انسان کو وصیت کا روپیہ واپس نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس نے ضعف ایمان کی وجہ سے وصیت کو منسوخ نہیں کرایا بلکہ اپنے حالات کی وجہ سے وصیت کو منسوخ کرایا ہے۔لیکن ایک دوسرا شخص ہے جو کہتا ہے کہ میرا وصیت پر ایمان ہی نہیں رہا اور میں نہیں مانتا کہ اس مقبرہ میں دفن ہونے سے روحانی طور پر کوئی فائدہ ہوتا ہے تو اس کے متعلق بیشک کہا جائے گا کہ وہ ضعف ایمان کی وجہ سے اپنی وصیت سے منکر ہو گیا اور در حقیقت میرے نزدیک ان الفاظ میں غیر مبائعین کے متعلق پیشگوئی کی گئی تھی۔و احمدیت کے منکر نہیں مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس مقبرہ میں دفن ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔پس ان کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ ضعف ایمان کی وجہ سے وصیت سے منکر ہو گئے ہیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسے ہی لوگوں کے لئے جو ضعف ایمان کی وجہ سے وصیت کا انکار کر دیں اور کہہ دیں کہ ہم اس بات کے قائل نہیں رہے کہ وصیت کر کے جنت مل سکتی ہے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اُن کا مال اُن کو رڈ کر دیا جائے کیونکہ خدا کسی کے مال کا محتاج نہیں۔دوسری صورت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص سلسلہ سے روگردان ہو جائے ، پس جو شخص ایسا ہو اُ سے بھی اس کا مال واپس کرنا چاہئے۔مگر خلیل احمد صاحب ناصر کہتے ہیں کہ سلسلہ سے روگردان ہونا اس کی طرف منسوب کیا گیا ہے یہ نہیں کہا گیا کہ اگر کسی کو نظام سلسلہ الگ کرے تو اُسے بھی اُس کا ادا کردہ مال واپس کیا جائے۔اور در حقیقت ایسے کئی لوگ ہوتے ہیں جو منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم سلسلہ سے روگردان نہیں مگر سلسلہ کو مجبوراً اُن کی کسی شرارت یا نفاق کی وجہ سے انہیں نظام سے الگ کرنا پڑتا ہے پس وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام