خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 613
۶۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء خطابات شوری جلد دوم فرما دیا کہ تمہارے پہلے وعدے ۱/۱۰ حصہ کی وصیت میں ہی شامل سمجھ لئے جائیں گے۔چوہدری اعظم صاحب کہتے ہیں کہ یہ حالت اُس وقت تو موجود تھی مگر بعد میں یہ حالت نہیں رہی بلکہ پھر چندہ کی ایک شرح مقرر ہو گئی اس لئے جب لوگ وصیت کرتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں اُن کا کوئی پہلا وعدہ منسوخ نہیں ہوتا بلکہ وصیت کی طرف اُن کا وعدہ منتقل ہو جاتا ہے۔پس موجودہ زمانہ میں جبکہ وہ وصیت قائم ہی نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تھی تو اس پر قیاس کر کے آج ہمارے لئے کوئی قانون بنانا درست نہیں ہوسکتا۔مولوی ابوالعطاء صاحب درحقیقت ترمیم کرتے ہیں شیخ بشیر احمد صاحب کی ترمیم میں وہ کہتے ہیں کہ احمدیت سے الگ ہونے والے موصی کا ادا کردہ اصل وصیتی مال اگر جماعت احمد یہ کے قبضہ میں موجود ہو تو ایسے شخص کو مطالبہ پر واپس کر دیا جائے گا اور اگر اصل چندہ موجود نہ ہو تو چندہ عام کا حصہ ۱۶ را وضع کر کے باقی حصہ لینے کا وہ مطالبہ کر سکتا ہے۔حصہ آمد کی موجودگی کا معیار اس سال کا بجٹ ہوگا۔گویا شیخ بشیر احمد صاحب کی ترمیم تو یہ ہے کہ اگر غیر منقولہ جائیداد بجنسہ موجود ہو تو صرف وہ واپس کی جائے مگر مولوی ابوالعطاء صاحب کہتے ہیں کہ منقولہ جائیداد بھی واپس کی جائے اور اگر اُس سال کا چندہ موجود ہو تو وہ بھی ۱۶ /ا حصہ وضع کر کے واپس کر دیا جائے۔دوسرا فرق شیخ بشیر احمد صاحب اور مولوی ابوالعطاء صاحب کی ترمیم میں یہ ہے کہ شیخ بشیر احمد صاحب کہتے ہیں کہ جو جائیداد بجنسہ انجمن کے قبضہ میں ہو وہ اُسے واپس کر دی جائے مطالبہ ہو یا نہ ہو۔مگر مولوی ابوالعطاء صاحب کہتے ہیں کہ مطالبہ ہو تو رو پیر اور جائیداد کو واپس کیا جائے مطالبہ نہ ہو تو نہ کیا جائے۔خلیل احمد صاحب ناصر کی ترمیم یہ ہے کہ یہ امر کہ کونسی چیز واپس کی جائے ، دوسرا سوال ہے۔پہلا سوال یہ ہے کہ مال کس کو واپس کیا جائے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنی وصیت سے منکر ہو جائے اور انکار بھی ضعف ایمان کی وجہ سے کرے اُسے مال واپس دیا جائے۔اگر ایک شخص کہتا ہے کہ میرا ایمان تو قوی ہے اور میں وصیت کے متعلق وہی اعتقاد رکھتا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے مگر اب میرے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ میں وصیت پر قائم نہیں رہ سکتا۔مثلاً اُس