خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 612

خطابات شوری جلد دوم کر کے باقی مال واپس کرنا چاہئے۔۶۱۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء چوہدری اعظم علی صاحب نے اس کا ایک جواب دیا ہے جو دوستوں کو مدنظر رکھنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اس قاعدہ کے بنانے کی ضرورت یہ پیش آئی تھی کہ وصیت کی تحریک سے پہلے لوگ اگر اور چندوں میں اپنی اپنی توفیق کے مطابق حصہ لیا کرتے تھے کہیں لنگر کے لئے دیتے تھے۔کہیں مدرسہ کے لئے دیتے تھے اور کہیں دیگر ضروریات کے لئے چندے بھیجتے تھے۔جب وصیت کا مسئلہ پیش ہوا تو اُن کے دل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ چندوں کے بارہ میں اُنہوں نے جو پہلے وعدے کئے ہوئے ہیں وہ اس میں شامل ہوں گے یا نہیں ہوں گے؟ فرض کرو ایک شخص کی سو روپیہ آمد ہے اور وہ پہلے ہی سات یا آٹھ یا نو روپے ماہوار چندہ دیا کرتا تھا اس کے بعد جب وصیت کا مسئلہ سامنے آیا تو اُس کے دل میں یہ سوال پیدا ہونا لازمی تھا کہ آیا میرے پہلے چندے اس ۱۰ را حصہ میں شامل سمجھ لئے جائیں گے یا اس چندہ کے علاوہ مجھے دس روپے اور ماہوار بطور چندہ دینے پڑیں گے۔اگر یہ کہا جاتا کہ ضرور ہر شخص وصیت کا چندہ الگ دے اور پہلے چندے حسب معمول الگ روانہ کرے تو کئی لوگوں کے لئے یہ ایک نا قابل عمل بات ہوتی کیونکہ وہ پہلے ہی کافی قربانی کر رہے تھے۔چنانچہ اس قسم کی مثالیں موجود ہیں کہ اس زمانہ میں بعض لوگ مثلاً دور و پیہ ماہوار سکول کے لئے بھیجا کرتے تھے اور دس روپیہ لنگر کے لئے۔اب ایک صورت تو یہ تھی کہ کہا جاتا کہ تم ۱۲ وہ اور دس وصیت کے یعنی بائیس روپے دو تب تم قواعد کے مطابق چلنے والے قرار پاؤ گے اور دوسری صورت یہ تھی کہ ان کی قربانی کے پیش نظر اجازت دی جاتی کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے موجودہ چندوں کو وصیت کے ۱/۱۰ حصہ میں شامل رہنے دیں۔اگر ان سے بائیں روپے مانگے جاتے تو اس کے معنے یہ تھے کہ اور لوگ جو پہلے عام چندوں میں اتنی قربانی کا نمونہ نہیں دکھایا کرتے تھے وہ تو دس روپے دے کر موصی بن جائیں مگر یہ بارہ روپے ماہوار دے کر بھی موصی نہ بنیں اور انہیں بائیس روپے دینے پڑیں حالانکہ بالکل ممکن تھا کہ وہ اپنے حالات کی وجہ سے بائیس روپے ماہوار نہ دے سکتے۔پس وہ لوگ جنہوں نے چندوں میں پہلے اچھے وعدے کئے ہوئے تھے اور قربانی کا نمونہ دکھا رہے تھے اُن کے لئے سہولت پیدا کرنے اور اُنہیں وصیت میں شامل کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے