خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 610

خطابات شوری جلد دوم ۶۱۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ سے یہ اجازت معلوم ہوتی ہے کہ ہم ان میں تغیر کر سکتے ہیں۔پس جب کوئی تغیر کرنے کا سوال پیدا ہوتا ہے تو صرف انہی قواعد کے متعلق جن سے اس قسم کی اجازت ظاہر ہوتی ہے ورنہ جن قواعد میں ایک صورت معین کر دی گئی ہے ان کے متعلق اس حق کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس جب بھی بحث ہوگی سوال یہ ہوگا کہ آیا یہ قاعدہ ان قواعد سے ہے جن میں ہمیں تغیر کرنے کا حق حاصل ہے یا ان قواعد میں سے نہیں ہے۔پس جو شخص کوئی تبدیلی کرانا چاہتا ہے وہ یہ نہیں کہتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کسی مقرر کردہ قاعدہ میں تبدیلی کرو بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر سے ہمیں تبدیلی کرنے کی اجازت معلوم ہوتی ہے۔اس کے مقابلہ میں دوسرا شخص جو یہ کہتا ہے کہ ہمیں اس تبدیلی کی اجازت نہیں وہ بھی اس وجہ سے یہ بات نہیں کہتا کہ اس کے نزدیک دوسرا فریق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قاعدہ کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ وہ صرف اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ تمہارا یہ اجتہاد غلط ہے کہ یہ اُن قواعد میں سے ہے جن میں تبدیلی کا ہمیں حق حاصل ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ بلا وجہ اس بات پر زور دیا ہے کہ جو لوگ قاعدہ میں تغیر چاہتے ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قواعد کو تسلیم نہیں کرتے۔مجھے یہ بات کہنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی ہے کہ بعض دوستوں نے بلا وجہ اپنی تقریروں میں ایسا رنگ اختیار کر لیا ہے اور اُنہوں نے اپنے بھائیوں پر یہ الزام لگا دیا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کو منسوخ کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہاں کسی تحریر کو منسوخ کرنے کا سوال نہیں بلکہ اس تحریر کی شکل کا سوال ہے کہ آیا تم جو کہتے ہو کہ اس قاعدہ میں ہمیں کسی تبدیلی کا حق نہیں یہ درست ہے یا نہیں؟ ورنہ ایک احمدی پر یہ الزام لگا نا کسی صورت میں بھی درست نہیں ہو سکتا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کسی تحریر کو منسوخ کرنے کے لئے کھڑا ہو گیا ہے۔اِس وقت جو ترمیمیں پیش کی گئی ہیں اُن کی وجہ سے بڑی مشکلات نظر آ رہی ہیں کیونکہ بعض ترمیمیں بعض کو رڈ کر دیتی ہیں اور بعض ترمیم در ترمیم ہیں اور اتنا وقت نہیں کہ سب تر میموں پر پورے طور پر غور کر کے کوئی فیصلہ کیا جا سکے پھر میرے لئے یہ بھی مشکل پیدا ہو رہی ہے کہ میں پہلے کونسی ترمیم پیش کروں اور بعد میں کسے پیش کروں اس لئے ممکن۔