خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 605
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء مقرر کیا ہے زیور اور کپڑے کا مطالبہ ممنوع قرار دیا جائے جو دوست اس کی تائید میں ہوں 66 وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۲۷۵ دوست کھڑے ہوئے اور اس کے خلاف صرف ۲۔حضور نے فرمایا : - میں کثرت رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔“ مہندی کی رسم تیرا حصہ یہ تھا کہ مہندی کی رسم ممنوع قرار دی جائے۔ملک عبدالرحمن صاحب خادم نے اس میں یہ ترمیم پیش کی کہ مائیاں اور کھارا کی رسوم بھی ممنوع قرار دی جائیں۔حضور نے فرمایا: - 66 اگر کوئی دوست اس کے متعلق کچھ کہنا چاہیں تو نام لکھوا دیں۔“ مگر کسی نے نام نہ لکھوایا۔حضور نے فرمایا: - اصل میں یہ بات بھی نامکمل طور پر پیش کی گئی ہے چاہئے تھا کہ جامع الفاظ میں ہے اسے پیش کیا جاتا۔میں نے حضرت اماں جان سے اس کے متعلق دریافت کرایا ہے اور اُنہوں نے فرمایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مہندی کی رسم نہ کبھی ہمارے ہاں ہوئی اور نہ آپ کے زمانہ میں قادیان میں کسی اور احمدی کے ہاں یہ رسم ادا ہوئی لیکن اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ عام ہو رہی ہے بلکہ ہمارے گھروں میں بھی غالبا ایسا ہوا ہے کہ لڑکی کے گھر میں مہندی بھجوائی گئی ( بعد میں تحقیق سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرا خیال غلط تھا ایسا کبھی نہیں کیا گیا ) اب یہ ایک رسم کی صورت اختیار کر گئی ہے اس لئے اسے روکنا ہمارا فرض ہے مگر اب اس کی اتنی اقسام ہیں کہ گویا شریعت کا ایک مستقل باب بن گیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ شیعوں کی مہندی کی نقل ہے یا شیعوں کی مہندی ان کی نقل ہے۔اب تجویز یہ ہے کہ شادی کے موقع پر مہندی اور اس کی متعلقہ جملہ رسوم جو رائج ہیں ہمارے نزد یک غیر اسلامی ہیں اور ہماری جماعت کو ان سے بچنا چاہئے۔جو دوست اس کی تائید میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔‘“ 66 اس پر ۳۰۷ احباب کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا : - یہ رسوم ایسی صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں کہ خطرہ ہے کہ وہ جُز و شریعت نہ بن جائیں اس لئے ان کا روکنا ہمارا فرض ہے اور دوستوں نے کثرت سے اسے روکنے کے حق